محمد زبیر
پاکستان کی تاریخ میں فوجی اقتدار، آئینی بحران، سیاسی ٹوٹ پھوٹ اور معاشی مشکلات جیسے کئی بڑے واقعات پیش آئے ہیں۔ ان تمام معاملات پر کئی دہائیوں سے تحقیق بھی ہوتی رہی ہے اور بحث و مباحثہ بھی جاری رہا ہے۔ مگر اقتدار پر قبضے کی ایک ایسی صورت بھی ہے جس پر کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ کام کیا، وہی سرکاری ریکارڈ، فائلوں اور سرکاری بیانیے پر بھی قابض رہے۔ طارق محمود اعوان کی کتاب بیوروکریٹک بغاوت: کس طرح بیوروکریسی نے قوم سے غداری کی اسی حقیقت کو سامنے لانے کی پہلی سنجیدہ کوشش ہے۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ یہ عمل کیسے شروع ہوا اور کس طرح آہستہ آہستہ پورے نظام پر حاوی ہو گیا۔
کتاب کے مطابق اس کہانی کا آغاز انیس سو چون میں ہوتا ہے۔ اس سال چند طاقتور سرکاری افسران نے ایک انتظامی حکم کے ذریعے ایسا نظام تیار کیا جس کے تحت وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے سب سے اہم عہدے اپنے لیے محفوظ کر لیے گئے۔ اس فیصلے پر نہ پارلیمان میں بحث ہوئی اور نہ عدالتوں میں اسے چیلنج کیا گیا۔ عوام بھی اس خاموش تبدیلی کو محسوس نہ کر سکے کیونکہ ملک ابھی نیا تھا اور اپنے مسائل میں الجھا ہوا تھا۔ کتاب کے مطابق یہی وہ لمحہ تھا جسے مصنف ایک خاموش بغاوت قرار دیتے ہیں۔ یہ بغاوت ٹینکوں یا اعلانات کے ذریعے نہیں بلکہ فائلوں اور قواعد کے ذریعے کی گئی اور پھر یہ نظام مستقل بنتا چلا گیا۔
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے کتاب ماضی کی طرف بھی نظر ڈالتی ہے۔ برطانوی دور میں جو سرکاری نظام بنایا گیا تھا اس کا مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ ان پر حکمرانی کرنا تھا۔ جب انیس سو سینتالیس میں پاکستان قائم ہوا تو اسی نظام کو تقریباً جوں کا توں برقرار رکھا گیا۔ امتحانات کا طریقہ، افسران کی درجہ بندی، اہم عہدوں پر چند مخصوص افسروں کی اجارہ داری اور ضلع کے افسر کو حاصل وسیع اختیارات، سب کچھ ویسا ہی رہا۔ صرف عمارتوں پر لہرانے والا پرچم تبدیل ہوا مگر اس کے نیچے چلنے والا نظام وہی رہا جو نوآبادیاتی دور میں بنایا گیا تھا۔
محمد علی جناح اس خطرے کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ان کی پوری سیاسی جدوجہد میں وفاقی نظام، صوبائی خود مختاری اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مطالبہ نمایاں تھا۔ ان کے چودہ نکات میں بھی وفاقی اصول کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ جب انیس سو سینتالیس میں آزادی کا قانون تیار کیا جا رہا تھا تو انہوں نے ذاتی طور پر مداخلت کر کے سرکاری ملازمتوں کی وہ نوآبادیاتی اسکیم ختم کروائی تھی جس کے ذریعے چند مخصوص طبقات کو اعلیٰ عہدوں پر ترجیح دی جاتی تھی۔ مگر ان کی وفات کے چند سال بعد ہی بیوروکریسی نے خاموشی سے وہی نظام دوبارہ نافذ کر لیا۔ کتاب کے مطابق یہ عمل بانی پاکستان کے تصور سے انحراف تھا۔
کتاب کا ایک اہم حصہ ایک ایسے دستاویز پر روشنی ڈالتا ہے جسے آج تک عام شہریوں کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انیس سو انچاس میں ایک معاہدے کے ذریعے مرکزی سول سروس کا ڈھانچہ قائم کیا گیا تھا۔ مصنف نے معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت اس دستاویز کو دیکھنے کی درخواست دی تو پہلے کہا گیا کہ یہ سرکاری ضابطوں میں موجود ہے۔ جب مزید سوال اٹھایا گیا تو جواب ملا کہ یہ دستاویز خفیہ ہے۔ دونوں باتیں ایک ساتھ درست نہیں ہو سکتیں۔ اگر یہ عوامی دستاویز ہے تو اسے دکھایا کیوں نہیں جاتا اور اگر خفیہ ہے تو پھر اس کی بنیاد پر پورا نظام کیسے چلایا جا رہا ہے۔ مصنف اس صورتحال کو آئینی دھوکا قرار دیتے ہیں۔
کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیوروکریسی کا اثر ریاست کے مختلف اداروں میں کس طرح ظاہر ہوتا ہے۔ پارلیمان اکثر ایسے قوانین منظور کرتی ہے جن کی تیاری اصل میں سرکاری افسران کرتے ہیں۔ منتخب وزراء جب اقتدار میں آتے ہیں تو انہیں جلد اندازہ ہو جاتا ہے کہ عملی اختیارات انتظامی طریقہ کار کے اندر محدود ہو جاتے ہیں۔ صوبائی حکومتیں اپنے سیاسی نمائندے تو منتخب کر لیتی ہیں مگر اکثر اہم انتظامی عہدے ایسے افسروں کے پاس ہوتے ہیں جو وفاقی نظام کے ماتحت ہوتے ہیں۔
فوجی حکومتوں کے دور کے بارے میں بھی کتاب میں اہم نکات پیش کیے گئے ہیں۔ جب فوج اقتدار سنبھالتی ہے تو اسے انتظامی معاملات چلانے کے لیے سول سروس پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح بیوروکریسی خود کو ناگزیر ثابت کرتی ہے اور اس کا اثر مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ پارلیمانی نگرانی کمزور پڑ جاتی ہے اور انتظامی ڈھانچہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو جاتا ہے۔
صوبوں کے حوالے سے بھی کتاب ایک اہم مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے۔ صوبائی انتظامی افسران اپنی پوری زندگی صوبائی حکومتوں کے ساتھ کام کرتے ہیں مگر اعلیٰ ترین عہدے اکثر وفاقی سروس کے افسروں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ اس طرح صوبائی افسران ایک حد سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ مصنف کے مطابق اس سے صوبائی حکومتوں کی خود مختاری بھی متاثر ہوتی ہے۔
مصنف واضح کرتے ہیں کہ اس کتاب کا مقصد صرف اصلاحات کی تجاویز دینا نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی حقیقت کو بیان کرنا ہے جو کئی دہائیوں سے قائم ہے۔ جب تک شہری اس نظام کو پوری طرح نہیں سمجھیں گے تب تک اس میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔ یہی شعور اس کتاب کا بنیادی مقصد ہے۔









