ایک کتاب، ایک قوم

[post-views]
[post-views]

کسی بھی قوم کا زوال صرف معاشی کمزوری، سیاسی بے یقینی یا انتظامی ناکامی سے نہیں ہوتا بلکہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ پڑھنا چھوڑ دیتی ہے۔ جو معاشرے کتاب سے اپنا رشتہ توڑ لیتے ہیں، وہ آہستہ آہستہ سوچنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور نئے خیالات پیدا کرنے کی صلاحیت بھی کھو دیتے ہیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دنیا کی ہر ترقی یافتہ تہذیب نے علم کو اپنی بنیاد بنایا، اور ہر وہ قوم جو کتاب سے دور ہوئی، وہ فکری جمود، کمزور اداروں اور ناقص قیادت کا شکار ہو گئی۔ آج پاکستان بھی ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہمیں اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

آج معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے، لیکن علم حاصل کرنے کی عادت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ موبائل فون، سماجی ذرائع ابلاغ اور مختصر ویڈیوز نے ہماری توجہ کو لمحوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہم روزانہ بے شمار خبریں دیکھتے ہیں، تبصرے پڑھتے ہیں اور مختلف موضوعات پر فوری رائے قائم کر لیتے ہیں، مگر ایک مکمل کتاب پڑھنے کے لیے وقت نکالنا ہمارے معمول کا حصہ نہیں رہا۔ نتیجتاً معلومات تو بڑھ رہی ہیں، لیکن فہم، بصیرت اور گہری سوچ کم ہوتی جا رہی ہے۔

اسی پس منظر میں ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک نے قومی مطالعہ تحریک کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ صرف ایک مہم نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک فکری دعوت ہے۔ اس تحریک کا مقصد ہر پاکستانی کو دوبارہ کتاب سے جوڑنا اور مطالعے کو قومی عادت بنانا ہے۔

یہ تحریک یکم ستمبر 2026 سے شروع ہو کر 31 دسمبر 2027 تک جاری رہے گی۔ سولہ ماہ پر مشتمل اس عرصے میں ہر پاکستانی سے صرف ایک درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھے۔ یہ مطالعہ امتحان میں کامیابی، ڈگری کے حصول یا ملازمت کی ضرورت کے لیے نہیں بلکہ اپنی سوچ کو وسعت دینے، علم میں اضافہ کرنے اور ایک بہتر شہری بننے کے لیے ہونا چاہیے۔

کتاب انسان کو صرف معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے سوچنے کا سلیقہ بھی سکھاتی ہے۔ مطالعہ انسان میں تجزیہ کرنے، مختلف نقطہ ہائے نظر کو سمجھنے، اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں، وہ معاشرے کے مسائل کو جذبات کے بجائے دلیل اور فہم کی بنیاد پر دیکھتے ہیں۔ یہی وہ خوبی ہے جس کی آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

قومی مطالعہ تحریک کا مقصد صرف افراد کو بہتر بنانا نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مضبوط کرنا ہے۔ مضبوط ادارے صرف قوانین سے نہیں بنتے بلکہ ایسے افراد سے بنتے ہیں جو علم رکھتے ہوں، وسیع مطالعہ کرتے ہوں اور ذمہ داری کا احساس رکھتے ہوں۔ اگر ہمارے اساتذہ زیادہ پڑھیں گے تو بہتر نسل تیار ہوگی۔ اگر سرکاری افسر مطالعہ کریں گے تو بہتر فیصلے کریں گے۔ اگر قانون ساز، جج، صحافی، محقق اور کاروباری شخصیات کتاب سے اپنا تعلق مضبوط کریں گی تو ریاستی ادارے بھی زیادہ مؤثر اور جواب دہ بنیں گے۔

یہ تحریک معاشرے کے ہر طبقے کے لیے ہے۔ گھروں میں والدین اپنے بچوں کے ساتھ مطالعے کا وقت مقرر کریں۔ سکول اور کالج کتاب بینی کے حلقے قائم کریں۔ جامعات علمی مذاکروں اور کتابی مباحثوں کا انعقاد کریں۔ سرکاری ادارے اپنے افسران اور ملازمین میں پیشہ ورانہ مطالعے کی حوصلہ افزائی کریں۔ کتب خانے دوبارہ علمی سرگرمیوں کے مراکز بنیں اور سماجی تنظیمیں عوام میں مطالعے کی اہمیت اجاگر کریں۔

مطالعے کی ثقافت پیدا کرنے کے لیے کسی بڑے بجٹ یا پیچیدہ منصوبوں کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے صرف ایک مضبوط عزم درکار ہے۔ اگر ہر پاکستانی ایک اچھی کتاب پڑھے، اس سے کچھ سیکھے اور پھر وہ کتاب کسی دوسرے شخص تک پہنچا دے تو علم کا یہ سفر خود بخود آگے بڑھتا جائے گا۔ ایک قاری ایک خاندان کو بدل سکتا ہے، ایک خاندان ایک محلے کو متاثر کر سکتا ہے اور ہزاروں محلے مل کر پورے ملک کی فکری سمت تبدیل کر سکتے ہیں۔

دنیا کی بڑی سیاسی، سماجی، سائنسی اور معاشی تبدیلیاں پہلے کتابوں کے صفحات پر جنم لیتی ہیں اور بعد میں عملی شکل اختیار کرتی ہیں۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی کی منزل طے نہیں کر سکتی جب تک اس کے شہری مطالعے کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ نہ بنا لیں۔ اگر ہم مضبوط پاکستان، مؤثر ادارے، باصلاحیت قیادت اور باشعور معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں دوبارہ کتاب کی طرف لوٹنا ہوگا۔

قومی مطالعہ تحریک دراصل پاکستان کے مستقبل کی تحریک ہے۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے جو ہر گھر، ہر سکول، ہر جامعہ، ہر سرکاری ادارے اور ہر شہری کے لیے ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم یکم ستمبر 2026 سے شروع ہونے والی اس تحریک کا حصہ بنیں گے، کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھیں گے اور دوسروں کو بھی مطالعے کی ترغیب دیں گے۔ کیونکہ کتاب صرف انسان کو نہیں بدلتی، بلکہ قوموں کی تقدیر بھی بدل دیتی ہے۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتاب دی بیوروکریٹک کو سمیت دیگر مقبول ترین کتابیں وینگارڈ، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن، سعید بک سٹورز اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں کے پاس دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتابیں منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]