واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ان کے خیال میں چین اور روس ایران کے ساتھ جاری تنازع میں براہِ راست شریک نہیں ہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دونوں ممالک اس تنازع میں شامل ہوئے تو یہ ان کے اپنے مفاد میں نہیں ہوگا اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ بیجنگ میں حالیہ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے انہیں یقین دلایا تھا کہ چین کسی بھی صورت ایران کو ہتھیار فراہم یا فروخت نہیں کرے گا۔ ان کے بقول یہ یقین دہانی چینی کمپنیوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی انہیں بتایا تھا کہ روس ایران کو ہتھیار فراہم نہیں کرے گا، اسی لیے وہ سمجھتے ہیں کہ چین اور روس موجودہ تنازع میں شریک نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ ممالک اس جنگ میں شامل ہوئے تو یہ ان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگا اور یقیناً ان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
ادھر امریکی ایوانِ نمائندگان نے 95 ارب ڈالر کے بجٹ منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس میں ایران کے ساتھ جاری جنگ سے متعلق اخراجات کے لیے بھی فنڈز شامل ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شدت اختیار کر گئی تھی، جن میں ایران کے متعدد اعلیٰ حکام، بشمول ملک کے سپریم لیڈر، ہلاک ہوگئے تھے۔
دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس سے واقف چار ذرائع کے مطابق خلیجی خطے میں سی آئی اے سے منسلک اہداف پر ایرانی حملوں کے بعد امریکی اداروں نے یہ جانچ شروع کی کہ آیا روس نے ایران کو اہداف کی نشاندہی یا ڈرون ٹیکنالوجی سے متعلق معاونت فراہم کی تھی۔ کریملن نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
امریکہ اس سے قبل بھی روس اور چین کی متعدد شخصیات اور کمپنیوں پر ایران کو فوجی سامان کے حصول میں مبینہ تعاون کے الزام میں پابندیاں عائد کر چکا ہے۔









