آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ پینی وونگ چین کو اس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی طاقت، بالخصوص جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے پر سخت پیغام دینے والی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیجنگ اپنی فوجی توسیع کے بارے میں خطے کو وہ شفافیت اور یقین دہانی فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی توقع کی جاتی ہے۔
اپنی تقریر میں وہ کہیں گی، ’’یہ سب چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے کے تناظر میں ہو رہا ہے، جس کے بارے میں نہ تو مطلوبہ شفافیت اختیار کی گئی ہے اور نہ ہی خطے کے ممالک کو اطمینان دلایا گیا ہے۔ اسی لیے آسٹریلیا نے اس میزائل آزمائش کو اشتعال انگیز اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔‘‘
یہ بیان ان کی چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای سے بارہویں ملاقات کے بعد سامنے آ رہا ہے، جو منگل کی شب جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
اس سے قبل بھی پینی وونگ نے چین کے رویے کو ’’عدم استحکام پیدا کرنے والا اور خطرناک‘‘ قرار دیا تھا، جب فلپائن کی فوج نے الزام عائد کیا کہ متنازع سمندری چٹان کے قریب ایک واقعے کے دوران چینی ساحلی محافظ دستے کے اہلکاروں نے ایک فلپائنی ملاح کو ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
وہ کہیں گی، ’’ہم جنوبی بحیرۂ چین میں چین کے بحری جہازوں کی جانب سے فلپائن، ویتنام، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے جہازوں کے خلاف اختیار کیے جانے والے خطرناک اور اشتعال انگیز طرزِ عمل پر اپنے تحفظات مسلسل ریکارڈ کراتے رہیں گے۔‘‘
کشیدگی میں مزید اضافہ چین کی جانب سے جنوبی بحرالکاہل میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے حالیہ تجربے کے بعد ہوا، جو آسٹریلیا اور فجی کے درمیان نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا۔ بیجنگ نے اس معاہدے کی شدید مذمت کی تھی۔
وزیراعظم انتھونی البانیزی نے میزائل کی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں دوسرا انتباہ
فلپائن کے دارالحکومت میں خطاب کرتے ہوئے پینی وونگ خطے کے ممالک کو یہ بھی خبردار کریں گی کہ اگر امریکہ اور ایران جنگ بندی برقرار رکھنے میں ناکام رہے تو آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے ایران پر مسلسل فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ ایران کے صدر نے منگل کو کہا کہ ملک اس وقت ’’مکمل جنگ‘‘ کی حالت میں ہے۔ دوسری جانب ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ یمن میں اس کے اتحادیوں نے سعودی بندرگاہوں کے محاصرے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
اس نئی کشیدگی کے باعث گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں تئیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور ایک بیرل خام تیل کی قیمت دوبارہ نوے ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے۔
آسٹریلیا میں اس اضافے کے نتیجے میں بعض شہروں میں ڈیزل کی قیمت دو ڈالر بیس سینٹ فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت ایک ڈالر ستاسی سینٹ فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ دولتِ مشترکہ بینک کے چیف ماہرِ معاشیات لیوک ییمَن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو ایندھن پر عائد محصول میں دی جانے والی بتیس سینٹ کی رعایت دوبارہ بحال کرنا پڑ سکتی ہے۔
پینی وونگ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں سے کہیں گی کہ خطے کے بیشتر ممالک ایندھن اور توانائی کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے موجودہ صورتحال ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔
وہ کہیں گی، ’’جنوب مشرقی ایشیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، خاندانوں اور کاروباری اداروں کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ خوراک کی پیداوار بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ جب کسی اہم سمندری گزرگاہ کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایسی گزرگاہوں پر رکاوٹوں کے اثرات صرف معاشی نہیں ہوتے۔ ہمارے عوام کا انحصار اس بات پر ہے کہ سمندری راستے ہر وقت کھلے اور محفوظ رہیں۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریلیا اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے درمیان رسد اور تجارت کے شعبوں میں تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
ان کے بقول، ’’جو ایندھن اور کھاد آسٹریلیا پہنچتی ہے، وہ بالآخر خوراک کی صورت میں دوبارہ اسی خطے کو واپس ملتی ہے۔‘‘









