پاکستان کی جنریشن زی اور جنوبی ایشیا کے نوجوان: ایک تقابلی جائزہ

[post-views]
[post-views]

Barrister Talha Nadeem

پاکستان میں ایک سوال مسلسل زیرِ بحث ہے کہ بے روزگاری، مہنگائی، معاشی سست روی، سیاسی بے یقینی، اظہارِ رائے پر بڑھتی ہوئی پابندیوں اور نوجوانوں میں پھیلتی ہوئی مایوسی کے باوجود پاکستان کی جنریشن زی کسی بڑے عوامی سیاسی یا سماجی احتجاج کی قیادت کیوں نہیں کر رہی۔ اس سوال کے جواب میں اکثر لوگ سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور حالیہ عرصے میں بھارت کی نوجوان قیادت میں چلنے والی اصلاحی تحریکوں کی مثالیں دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان ممالک کے نوجوان اپنے سیاسی نظام کو چیلنج کر سکتے ہیں تو پاکستان کی جنریشن زی ایسا کیوں نہیں کر سکتی۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے محض ظاہری مماثلتیں کافی نہیں۔ پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ، ریاستی تاریخ اور عوامی سیاست کا ارتقا اپنے ہمسایہ ممالک سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کی تحریکوں کو پاکستان پر منطبق کرنا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں بنتا۔ اس موازنے میں دو بنیادی فرق ایسے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پہلا فرق سیاسی نظام کی نوعیت اور طاقت کے مراکز سے متعلق ہے۔

سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور بھارت میں نوجوانوں کی تحریکوں کا بنیادی ہدف منتخب سیاسی حکومتیں تھیں۔ وہاں احتجاج براہِ راست ان حکومتوں کے خلاف تھا جنہیں انتخابات کے ذریعے اقتدار ملا تھا۔ عوامی دباؤ بڑھا تو حکومتیں تبدیل ہوئیں، وزرائے اعظم مستعفی ہوئے، نئے انتخابات ہوئے یا سیاسی قیادت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا پڑی۔ ان ممالک میں احتجاج کا مرکز سول حکومتیں تھیں اور ریاستی ڈھانچہ بھی بنیادی طور پر اسی سیاسی نظام کے تحت کام کرتا تھا۔

پاکستان کی صورتِ حال اس سے مختلف ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں کئی مرتبہ براہِ راست فوجی حکومتیں قائم رہیں، جبکہ جمہوری ادوار میں بھی ملکی سیاست میں ریاستی اداروں کے کردار پر مسلسل بحث ہوتی رہی ہے۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان میں صرف منتخب حکومت کو تبدیل کرنا سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلی نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ طاقت کے مراکز زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اس تجزیے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کا سیاسی ارتقا جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک سے مختلف رہا ہے۔

اسی لیے پاکستان میں کسی بھی بڑے عوامی احتجاج کی نوعیت بھی مختلف ہو جاتی ہے۔

دنیا بھر میں نوجوان احتجاج ضرور کرتے ہیں، لیکن وہ اپنے سامنے موجود خطرات کا بھی اندازہ لگاتے ہیں۔ جب انہیں محسوس ہو کہ احتجاج صرف حکومت کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ زیادہ مضبوط ریاستی ڈھانچے کے سامنے کھڑا ہونے کے مترادف ہے تو ان کی حکمتِ عملی بھی بدل جاتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ طاقتور ریاستی نظم کے مقابلے میں کھڑی ہونے والی تحریکیں زیادہ پیچیدہ، زیادہ طویل اور زیادہ پرخطر ہوتی ہیں۔

کوئی بھی نوجوان نسل اپنے مستقبل کو صرف جذبات کی بنیاد پر داؤ پر نہیں لگاتی۔ نوجوان جوش رکھتے ہیں، لیکن وہ حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ بھی لیتے ہیں۔ جہاں انہیں اپنے جان و مال کا زیادہ خطرہ محسوس ہو، وہاں احتجاج کی رفتار بھی مختلف ہو جاتی ہے۔ اسی لیے پاکستان کا موازنہ ان ممالک سے کرنا درست نہیں جہاں سیاسی کشمکش بنیادی طور پر منتخب حکومتوں کے گرد گھومتی رہی۔

دوسرا بنیادی فرق عوامی تحریکوں کی ساخت میں ہے۔

سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں جن عوامی تحریکوں نے سیاسی تبدیلی پیدا کی، وہ کسی ایک سیاسی جماعت کی تحریک نہیں تھیں۔ ان میں طلبہ، اساتذہ، مزدور، وکلا، صحافی، کاروباری طبقہ، سول سوسائٹی اور عام شہری مختلف سیاسی وابستگیوں کے باوجود شریک ہوئے۔ ان تحریکوں کی اصل طاقت یہی تھی کہ وہ کسی جماعت کے جھنڈے کے بجائے قومی مسائل کے گرد منظم ہوئیں۔

پاکستان میں صورتِ حال مختلف رہی ہے۔

یہاں بڑے سیاسی احتجاج عموماً کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے زیرِ اثر رہے ہیں۔ آج اگر ایک جماعت حکومت میں ہے تو دوسری اپوزیشن میں ہے، اور کل یہی صورتِ حال الٹ بھی سکتی ہے۔ چنانچہ جب احتجاج کسی ایک جماعت کی قیادت میں ہوتا ہے تو دوسرے سیاسی حلقے اسے قومی تحریک کے بجائے جماعتی مفاد کی جدوجہد سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً معاشرے کی بڑی تعداد اس سے فاصلہ اختیار کر لیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں اکثر احتجاج قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے بجائے سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔

اگر کسی تحریک کو صرف ایک جماعت کی جدوجہد سمجھا جائے تو اس میں پورا معاشرہ شریک نہیں ہو سکتا۔ عوام کی بڑی تعداد اس وقت تک کسی تحریک کا حصہ نہیں بنتی جب تک وہ خود کو اس کا مشترکہ مالک محسوس نہ کرے۔ یہی وہ فرق ہے جو پاکستان کو اپنے ہمسایہ ممالک سے الگ کرتا ہے۔

پاکستان کی جنریشن زی ملک کی سب سے بڑی، سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور ڈیجیٹل طور پر سب سے زیادہ مربوط نسل ہے۔ یہ دنیا بھر کے سیاسی واقعات کو لمحہ بہ لمحہ دیکھتی ہے، عالمی مباحث میں حصہ لیتی ہے اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہر اہم واقعے سے آگاہ رہتی ہے۔ اس کے باوجود معلومات تک رسائی ہمیشہ اجتماعی سیاسی عمل میں تبدیل نہیں ہوتی۔

ہر نوجوان سب سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ کسی بھی تحریک کی کامیابی کے امکانات کیا ہیں، اس کی قیمت کیا ہوگی اور اس کے نتائج کیا نکل سکتے ہیں۔ یہی سوچ ہر معاشرے میں نوجوانوں کے سیاسی رویے کو تشکیل دیتی ہے۔

اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کی جنریشن زی بے حس، بے پروا یا قومی مسائل سے لاتعلق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ایسے سیاسی ماحول میں زندگی گزار رہی ہے جس کی اپنی پیچیدگیاں، اپنے خطرات اور اپنے تقاضے ہیں۔

اگر پاکستان میں کبھی کوئی حقیقی قومی عوامی تحریک وجود میں آتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ کسی ایک سیاسی جماعت کی تحریک نہ ہو بلکہ پورے معاشرے کی آواز بنے۔ اس میں طلبہ، مزدور، کسان، تاجر، اساتذہ، وکلا، صحافی، خواتین، نوجوان اور تمام طبقات بلاامتیاز شریک ہوں۔ ایسی تحریک ہی وسیع عوامی اعتماد حاصل کر سکتی ہے۔

سیاسی جماعتیں جمہوریت کا لازمی حصہ ہیں اور انتخابات، قانون سازی اور حکومت سازی میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ بڑی سماجی تبدیلیاں اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں جب ان کی بنیاد جماعتی مفادات کے بجائے قومی مقاصد پر رکھی جائے۔

پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہماری جنریشن زی سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال یا بھارت کے نوجوانوں جیسی کیوں نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایسا سیاسی، آئینی اور سماجی ماحول پیدا کر سکتا ہے جہاں نوجوان خود کو محفوظ، بااختیار اور مؤثر محسوس کریں اور قومی معاملات میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

پاکستان کی جنریشن زی میں صلاحیت، شعور اور توانائی کی کمی نہیں۔ ضرورت صرف ایسے سیاسی ماحول، مضبوط جمہوری اداروں اور قومی اعتماد کی ہے جہاں نوجوان یہ یقین کر سکیں کہ ان کی آواز سنی بھی جائے گی اور اس کا احترام بھی کیا جائے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک زیادہ مستحکم، جمہوری اور بااعتماد مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]