بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

تحریکِ انصاف کے احتجاج میں تاخیر سے اسلام آباد کے سکیورٹی اخراجات ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کا خدشہ

[post-views]
[post-views]

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے وفاقی دارالحکومت کی جانب مجوزہ مارچ کے ملتوی ہونے سے حکومت کے سکیورٹی اخراجات میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔ صرف کنٹینرز کے کرائے کی مد میں روزانہ چار کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف کی جانب سے احتجاج تقریباً ایک ہفتے کے لیے ملتوی کیے جانے کے بعد اسے روکنے کے لیے کیے گئے انتظامات کی مجموعی لاگت ایک ارب روپے سے تجاوز کر سکتی ہے۔

تحریکِ انصاف نے ابتدائی طور پر 27 ستمبر سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد پولیس نے انتظامات شروع کرتے ہوئے کنٹینرز کے کرائے، پنجاب اور سندھ سے آنے والے اضافی پولیس اہلکاروں کی رہائش، کھانے اور نقل و حمل کے لیے 82 کروڑ روپے طلب کیے تھے۔

ابتدائی بجٹ ایک ہفتے کے سکیورٹی انتظامات کے لیے تیار کیا گیا تھا کیونکہ حکام کو توقع تھی کہ 27 ستمبر سے شروع ہونے والا احتجاج اور لانگ مارچ چار اکتوبر تک ختم ہو جائے گا۔ تاہم احتجاج کے نئے شیڈول کے باعث یہ واضح نہیں کہ انتظامات کتنے عرصے تک برقرار رکھنا پڑیں گے۔

کنٹینرز کا کرایہ سکیورٹی اخراجات کا بڑا حصہ

اسلام آباد میں داخلے کے راستے بند کرنے اور اہم شاہراہوں پر نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے پولیس نے ایک ہزار 550 کنٹینرز کا انتظام کیا ہے۔

آل پاکستان گڈز الائنس کے چیئرمین نثار حسین جعفری کے مطابق الائنس نے ابتدا میں 40 فٹ کے کنٹینر کا یومیہ کرایہ 40 ہزار روپے اور 20 فٹ کے کنٹینر کا کرایہ 20 ہزار روپے طلب کیا تھا۔

بعدازاں دونوں اقسام کے کنٹینرز کے لیے یومیہ کرایہ 30 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اس شرح کے مطابق ایک ہزار 550 کنٹینرز کا روزانہ کرایہ چار کروڑ 65 لاکھ روپے بنتا ہے۔ ایک ہفتے کے لیے یہ رقم 32 کروڑ 55 لاکھ روپے، جبکہ دو ہفتوں کے لیے 65 کروڑ 10 لاکھ روپے تک پہنچ جائے گی۔

نثار حسین جعفری نے بتایا کہ تحریکِ انصاف کی جانب سے مارچ ملتوی کیے جانے کے بعد الائنس نے پولیس سے رابطہ کرکے پوچھا کہ کنٹینرز واپس کیے جائیں گے یا نہیں۔ تاہم حکام نے تاحال فیصلہ نہیں کیا کہ کنٹینرز مالکان کے حوالے کیے جائیں یا نئے احتجاج تک تحویل میں رکھے جائیں۔

اسلام آباد کے لیے مزید 18 ہزار پولیس اہلکار طلب

وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے سکیورٹی انتظامات کے لیے پنجاب پولیس سے 16 ہزار اور سندھ پولیس سے دو ہزار اہلکار طلب کیے ہیں۔

سندھ پولیس کا دستہ اسلام آباد پہنچ چکا ہے اور اسے پولیس لائنز ہیڈکوارٹرز، فیصل مسجد اور سیکٹر جی-13 کے کمیونٹی سینٹر میں قائم عارضی رہائش گاہوں میں ٹھہرایا گیا ہے۔

آنے والے ہر اہلکار کو روزانہ تین وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے، جس کی فی کس لاگت تقریباً 600 روپے ہے۔

اس حساب سے سندھ پولیس کے دو ہزار اہلکاروں کے کھانے پر روزانہ 12 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ ایک ہفتے میں یہ اخراجات 84 لاکھ روپے اور دو ہفتوں میں ایک کروڑ 68 لاکھ روپے تک پہنچ جائیں گے۔

دوسری جانب پنجاب پولیس کا طلب کردہ دستہ جمعے کی شام تک وفاقی دارالحکومت نہیں پہنچا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق 16 ہزار اہلکاروں کی 25 ستمبر کی شام تک آمد متوقع تھی، جبکہ ان کی تعیناتی کا منصوبہ اگلی شام سے نافذ ہونا تھا۔

اگر پنجاب پولیس کا مکمل دستہ اسلام آباد پہنچ جاتا ہے تو اس کے کھانے کا تخمینی یومیہ خرچ 96 لاکھ روپے ہوگا، جو ایک ہفتے میں چھ کروڑ 72 لاکھ روپے بنتا ہے۔

ٹرانسپورٹ اور ہوٹلوں کے اخراجات میں بھی اضافہ

پولیس اہلکاروں کو رہائش گاہوں سے ڈیوٹی کے مقامات تک پہنچانے کے لیے تقریباً 70 کوسٹرز، 30 ڈبل کیبن گاڑیوں اور بسوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

ایک کوسٹر کا یومیہ کرایہ 15 ہزار روپے ہے، جس کے مطابق 70 کوسٹرز کا مجموعی روزانہ خرچ 10 لاکھ 50 ہزار روپے بنتا ہے۔

اسی طرح 30 ڈبل کیبن گاڑیوں کا فی گاڑی یومیہ کرایہ 10 ہزار روپے ہے، جس سے روزانہ مزید تین لاکھ روپے کے اخراجات ہوں گے۔

رہائش کے لیے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں واقع 13 ہوٹلوں کے 175 کمرے بھی بک کیے گئے ہیں۔

یہ انتظامات 246 انسپکٹرز، 58 ڈپٹی اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس، سپرنٹنڈنٹس آف پولیس، 10 سینئر سپرنٹنڈنٹس آف پولیس اور آٹھ ڈپٹی انسپکٹرز جنرل آف پولیس کے لیے کیے گئے ہیں۔

مجموعی کمروں میں سے 11 ہوٹلوں کے 157 کمرے انسپکٹر سے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تک کے افسران کے لیے مختص ہیں۔

ان کمروں کا یومیہ کرایہ سات لاکھ 54 ہزار 500 روپے ہے، جو ایک ہفتے میں 52 لاکھ 81 ہزار 500 روپے بنتا ہے۔

پولیس اہلکاروں کی نقل و حمل کے لیے حاصل کی گئی بسوں اور سینئر افسران کے لیے دو ہوٹلوں میں بک کیے گئے باقی 18 کمروں کے کرائے کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں۔

گڈز الائنس کا گاڑیوں اور عملے کو تحویل میں رکھنے پر اظہارِ تشویش

سکیورٹی اخراجات میں اضافے کے ساتھ آل پاکستان گڈز الائنس نے مال بردار گاڑیوں اور ان کے عملے کو تحویل میں رکھنے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

نثار حسین جعفری کے مطابق اسلام آباد اور پنجاب پولیس نے کم از کم دو ہزار 700 گاڑیاں ان کے تین، تین رکنی عملے سمیت اپنی تحویل میں لی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً 400 گاڑیوں اور ان کے عملے کے بارے میں معلومات دستیاب نہیں، جبکہ باقی گاڑیوں کے عملے کو پولیس اسٹیشنوں میں رکھا گیا ہے۔

ان کے مطابق ڈرائیوروں اور دیگر کارکنوں کو باضابطہ طور پر گرفتار نہیں کیا گیا، تاہم انہیں کھانا لینے کے علاوہ پولیس اسٹیشنوں سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے ان کے موبائل فون، گاڑیوں کے کاغذات اور چابیاں بھی اپنے قبضے میں لے رکھی ہیں۔

ذرائع کے مطابق عملے کو اس لیے پولیس اسٹیشنوں میں رکھا جا رہا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ کنٹینر بردار ٹرکوں کو منتقل کر سکیں، کیونکہ ان بڑی گاڑیوں کو چلانے کے لیے مخصوص مہارت درکار ہوتی ہے۔

الائنس کے مطابق گاڑیاں اور ان کا عملہ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، جھنگ، حسن ابدال، اٹک، کامونکی، ٹیکسلا، جہلم، میانوالی، چکوال، فیصل آباد اور گجرات سے تحویل میں لیا گیا۔

تحویل میں لی گئی دو ہزار 700 گاڑیوں میں سے تقریباً 450 پر تجارتی سامان موجود تھا، جس میں ادویات، اشیائے خورونوش اور کیمیکل شامل ہیں۔

احتجاج ملتوی ہونے اور کنٹینرز کی واپسی سے متعلق فیصلہ نہ ہونے کے باعث اسلام آباد کے سکیورٹی انتظامات کی مدت اور ان پر آنے والی حتمی لاگت تاحال غیر یقینی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]