‏نظریاتی جدوجہد ، پاکستانی سیاسی جماعتیں اور تحریک انصاف

[post-views]
[post-views]

بیرسٹر گوہر زمان

نظریاتی جدوجہد کی کامیابی کے لیے سیاسی جماعتوں کا نظریاتی ہونا لازم ہے۔ پاکستان میں جمہوریت و قانون کی بالادستی ہمیشہ سے ہی ایک چیلنج رہا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں عدلیہ، بیوروکریسی اور اسٹیب کا کردار پوشیدہ نہیں رہا ہے بلکہ ہنوز جاری ہے۔ اس لیے جمہور کی حق نمائندگی اور حق حکمرانی کی نظریاتی جدوجہد اور کامیابی کو سنجیدہ مسائل درپیش ہیں۔

پاکستان میں نظریاتی سیاسی جدوجہد اس لیے کامیاب نہیں ہوئی کہ سیاسی جماعتیں نہ تو منظم ہیں اور نہ ہی نظریاتی۔ پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں ہی وہ تنظیمیں ہیں جو کہ نطریاتی سیاسی جدوجہد کرنے کا سیاسی مینڈیٹ رکھتی ہیں۔ سیاسی جماعت کو عوامی مقبول راہنما کے بعد سیاسی تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاسی جماعت کا منشور و نظریہ اور لائحہ عمل کا کردار بھی کلیدی ہوتا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں 1985 کے غیر جماعتی الیکشن نے سیاست میں قابل انتخاب متعارف کروایا۔ اس الیکشن نے ذات برادری ، دھڑا بندی، رشوت، ٹھیکہ داری، اقربا پروری اور پیسے کو سیاست میں سرایت کیا۔ یہ قابل انتخاب اتنے مضبوط ہوئے کہ تمام سیاسی جماعتیں اب ان کے ذریعے نہ صرف منظم ہوتی ہیں بلکہ انتخابات بھی جیتتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان میں سیاسی جماعت کا منظم ہونا محنت طلب کام ہے۔ پارٹی کی تنظیم ، تربیت اور ساخت قائم کرنا بھی مشکل کام ہے۔ اسکے مقابلے میں یہ کئی آسان ہے کہ حلقوں سے قابل انتخاب اکٹھے کر لیں جائیں اور الیکشن کو جیت لیا جائے ۔ پاکستانی سیاست میں پچھلی دو دہائیوں میں پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، اور جہاں تک کہ تحریکِ انصاف نے بھی یہی کیا ہے۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں پاکستان میں دراصل ایک ہی سیاسی جماعت ہے جسکا نام قابل انتخاب ہے جو کہ جب چاہیں ، جہاں چاہیں ، ہر طرح کی سیاسی جماعتوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہی قابل انتخاب ہی اسٹیب کا اصل سرمایہ ہیں اور یوں طاقت ہمیشہ اسٹیب کے پاس رہتی ہے۔ اس لیے جب سیاسی جماعتیں عوامی جدوجہد کرنا بھی چاھیں تو نہیں کر سکتیں، کیونکہ قابل انتخاب انکا کبھی بھی ساتھ نہیں دیتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر سیاسی جماعتیں نہ ہی منظم ہیں اور نہ ہی نظریاتی قیادت موجود ہے۔ تحریک انصاف کو ہی دیکھ لیں، جو کہ حقیقی آزادی کی جدوجہد میں بظاہر مصروف نظر آتی ہے مگر کیا وہ اتنی منظم اور مربوط ہے کہ ریاستی اداروں کے کریک ڈاؤن اور پریشر کو برداشت کر سکے؟ کیا قابل انتخاب تحریک انصاف کا سرمایہ ہیں یا نظریاتی بوجھ؟ کیا تحریک انصاف پرویز الٰہی ( صدر تحریک انصاف) شاہ محمود قریشی ، عثمان بزدار، مونس الٰہی ، شیخ رشید، اور دیگر کے ہمراہ حقیقی آزادی کی نظریاتی جدوجہد حاصل کر سکتی ہے؟

تحریک انصاف اس نظریاتی جدوجہد میں صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے جب وہ نظریاتی طور پر منظم ہو اور دوسرے ، تیسرے درجے کی نظریاتی قیادت پیدا کرے جو کہ یونین کونسل تک اسکو منظم کرے۔ نظریاتی جدوجہد کی کامیابی کے لیے نظریہ بنیادی عنصر ہے اور اگر ایک دفعہ جھول یا کمپرومائز ہو جائے تو نظریاتی جدوجہد بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ حقیقی آزادی کی نظریاتی جدوجہد عمران خان اور تحریک انصاف کا اصل امتحان ہے۔ نظریاتی جدوجہد کے علاؤہ سیاسی جماعتوں کو گورننس بھی بہتر کرنا ہو گی۔ جب تک سیاسی جماعتیں گورننس میں نتائج نہیں دکھائیں گی، مطلوبہ عوامی سپورٹ میسر نہیں ہو سکے گی۔

Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.

پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوامی شعور ، جمہوریت اور عوامی حق حاکمیت کے لیے اجاگر ہوا ہے۔ اس لیے سیاسی جماعتوں کو سیاسی شعور کو سیاسی عملداری میں ڈھالنا ہو گا۔ تاریخ کا دھارا تحریک انصاف کے حق میں دکھائی دے رہا ہے مگر کامیابی تنظیمی صلاحیتوں سے ہی ممکن ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میں دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کا فقدان ہے۔ اس لیے حلقہ جاتی سیاست مشکل ہوتی چلی جائیگی۔ الیکشن میں کامیابی سے مراد ذیادہ انتخابی حلقوں میں فتح حاصل کرنا ہے۔

آخر میں نظریاتی سیاست کو نظریاتی امیدواران اور تنظیم کی ضرورت رہتی ہے۔ قابل انتخاب کی بنیاد پر نظریاتی تحریکیں قائم نہیں ہو سکتیں۔ تحریک انصاف کے عام ورکرز اور سپورٹرز تحریک انصاف سے اس لیے جڑے ہوئے ہیں کہ پاکستان میں شفاف اور جمہوری حکومت قائم ہو جو کہ عوام کے بنیادی مسائل حل کرے۔ تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت میں عثمان بزدار جیسے حکمران منصب پر فائز رہے جنکی وجہ سے نہ صرف گورننس کمزور ہوئی بلکہ تحریک انصاف کو انتظامی طور پر بھی نقصان ہوا۔

رپبلک پالیسی کا ماہ جون کا میگزین پڑھنے کیلئے کلک کریں۔

اس تناظر میں ناقدین اس دلیل پر بھی بحث کرتے ہیں کہ عمران خان کی نااہلی یا قید کی صورت میں تحریک انصاف کو کیسے چلایا جائیگا؟ عمران خان نے کہا تھا کہ پرویز خٹک اور شاہ محمود پارٹی چلائیں گے۔ مگر پرویز خٹک تو پارٹی چھوڑ گئے ہیں
کیا شاہ محمود ایسا کر پائیں گے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos