پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا بحران

[post-views]
[post-views]

ظفر اقبال

پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق حوصلہ افزا خبریں آئے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے۔ ہر چند ماہ بعد اعداد و شمار میں معمولی بہتری سامنے آتی ہے اور کچھ وقت کے لیے معاشی حلقوں میں امید پیدا ہو جاتی ہے، لیکن مجموعی صورتحال تبدیل نہیں ہوتی۔ سرمایہ کاری کی آمد کمزور ہے، سرمایہ مسلسل واپس جا رہا ہے، سرمایہ کار ممالک کی تعداد محدود ہے، اور معیشت اب بھی طویل مدتی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد معاشی ماحول رکھتا ہے۔ امید کی چھوٹی چھوٹی خبریں تو آتی رہتی ہیں، مگر بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی۔

اپریل 2026 کے اعداد و شمار نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا۔ اس ماہ پاکستان کو 27 کروڑ 34 لاکھ ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری موصول ہوئی، لیکن اسی دوران 21 کروڑ 89 لاکھ ڈالر بیرونِ ملک منتقل ہو گئے۔ اس طرح خالص سرمایہ کاری صرف 5 کروڑ 45 لاکھ ڈالر رہی۔ ایک ایسے ملک کے لیے جسے روزگار، ٹیکنالوجی، برآمدات اور معاشی ترقی کے لیے فوری طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری درکار ہے، یہ اعداد و شمار حوصلہ افزا نہیں بلکہ تشویش ناک ہیں۔ سرمایہ آتا ہے، مگر جلد واپس بھی چلا جاتا ہے۔

مالی سال 2026 کے ابتدائی دس ماہ کی صورتحال مزید فکر انگیز ہے۔ جولائی تا اپریل خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 1.409 ارب ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 2.035 ارب ڈالر تھی۔ یعنی تقریباً 31 فیصد کمی واقع ہوئی۔ مجموعی سرمایہ کاری بھی کم ہوئی، جو گزشتہ سال 3.632 ارب ڈالر تھی اور اب 2.978 ارب ڈالر رہ گئی۔ دوسری جانب بیرونِ ملک منتقل ہونے والی رقوم 1.569 ارب ڈالر کی بلند سطح پر برقرار رہیں۔ اس کا مطلب واضح ہے: سرمایہ کاری کم آ رہی ہے اور جو آتی ہے وہ بھی زیادہ دیر ملک میں نہیں رہتی۔

یہ صورتحال کوئی وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مسلسل رجحان بن چکی ہے۔ پاکستان کئی برسوں سے کمزور سرمایہ کاری کے دائرے میں پھنسا ہوا ہے۔ کبھی اعداد و شمار میں معمولی بہتری آتی ہے اور کبھی دوبارہ گراوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ ملک اب تک ایسی مسلسل اور وسیع غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل نہیں کر سکا جو صنعتی ترقی، بڑے پیمانے پر روزگار اور برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکے۔

شعبہ جاتی اعداد و شمار بھی کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔ توانائی کا شعبہ سب سے زیادہ سرمایہ کاری حاصل کرنے والا شعبہ رہا جہاں 78 کروڑ 56 لاکھ ڈالر کی خالص سرمایہ کاری آئی۔ اس کے بعد مالیاتی شعبہ 65 کروڑ 89 لاکھ ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ ان دونوں شعبوں نے تقریباً پورے سرمایہ کاری نظام کا بوجھ اٹھایا۔ اس کے مقابلے میں برآمدی صنعتوں، ٹیکنالوجی، دواسازی، انجینئرنگ، زرعی کاروبار، لاجسٹکس اور جدید خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کاری نہایت محدود رہی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اب بھی ایسی معیشت نہیں بن سکا جو عالمی سپلائی چین کا مؤثر حصہ بن سکے۔

ممالک کے اعتبار سے بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔ چین سب سے بڑا سرمایہ کار رہا، مگر اس کی سرمایہ کاری بھی کم ہو کر 73 کروڑ 96 لاکھ ڈالر رہ گئی، جبکہ گزشتہ سال یہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔ ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور جنوبی کوریا دیگر نمایاں سرمایہ کار ممالک رہے۔ مجموعی طور پر پاکستان چند مخصوص ممالک پر انحصار کر رہا ہے، اور ان ممالک سے بھی سرمایہ کاری کی رفتار کم ہو رہی ہے۔

اس صورتحال کی وجوہات سمجھنا مشکل نہیں۔ سرمایہ کار مشکل حالات میں بھی کام کر لیتے ہیں، مگر غیر یقینی ماحول میں طویل مدتی سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔ پاکستان میں کئی برسوں سے پالیسیوں میں اچانک تبدیلیاں، ٹیکس نظام کا عدم استحکام، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سست اور غیر شفاف منظوری کا نظام، منافع کی بیرونِ ملک منتقلی سے متعلق خدشات، معاہدوں پر کمزور عملدرآمد، گردشی قرضے، سیاسی بے یقینی اور وفاق و صوبوں کے درمیان ضابطہ جاتی اختلافات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتے رہے ہیں۔

اسی لیے صرف معاشی استحکام کافی نہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام، بہتر زرِ مبادلہ ذخائر یا کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری وقتی اعتماد تو پیدا کرتے ہیں، مگر طویل مدتی سرمایہ کار صرف چند ماہ کے معاشی اعداد و شمار دیکھ کر فیصلے نہیں کرتے۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ کیا آج کی معاشی پالیسی پانچ سال بعد بھی برقرار رہے گی؟ کیا منافع باآسانی واپس منتقل کیا جا سکے گا؟ کیا حکومتیں معاہدوں کی پابندی کریں گی؟ اور کیا وفاقی منظوری کے بعد صوبائی سطح پر رکاوٹیں پیدا نہیں ہوں گی؟

جب تک ان بنیادی سوالات کے واضح اور قابلِ اعتماد جواب نہیں دیے جاتے، پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری محدود ہی رہے گی۔ سرمایہ کاری کبھی کبھار آئے گی، مگر زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی۔

پاکستان کے پاس وہ تمام قدرتی اور معاشی صلاحیتیں موجود ہیں جو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو متوجہ کر سکتی ہیں۔ نوجوان آبادی، وسیع زرعی بنیاد، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور صنعتی ترقی کی گنجائش ملک کے بڑے اثاثے ہیں۔ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ حکمرانی، پالیسیوں کے تسلسل اور اعتماد کا فقدان ہے۔ جب تک سرمایہ کاروں کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ قوانین اور پالیسیوں میں اچانک تبدیلی نہیں آئے گی، تب تک بڑی اور پائیدار سرمایہ کاری پاکستان کا رخ نہیں کرے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]