Premium Content

پاکستان میں صحت عامہ کی سہولیات کا فقدان اور ان کا حل

Print Friendly, PDF & Email

پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کا نظام  آزادی کے وقت برطانوی عہد سے ملا تھا۔یہ نظام صحتِ عامہ کی خدمات اور کچھ علاج معالجہ کی شکل میں تھا ۔ پاکستان میں صحت کی پالیسیاں بنانے اور منصوبہ بندی کا معاملہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن آئین میں کچھ ترامیم ہوئیں جس کے تحت اب صوبے بھی  صحت عامہ کے معاملات کو خود دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے جو پالیسیاں بنائی جاتی ہیں صوبائی حکومتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان پالیسیوں کے نفاذ کو یقینی بنائیں ۔ سب سے بڑا مسئلہ جو نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں پبلک ہیلتھ سکولوں اور ٹیکنیشین ٹریننگ اداروں کو متعارف کروا کر میڈیکل پروفیشنلز کو تربیت دے کر صحت کی دیکھ بھال کے معیار کو بہتر بنانے میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے میڈیکل کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ترقی میں اپنے محدود وسائل خرچ کر رہی ہیں۔

آئینِ پاکستان کے مطابق سوائے وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں کے ، صحت کی دیکھ بھال بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ کورونا، ایڈز ، پولیو اور کچھ دیگر توسیعی پروگراموں کے نفاذ کی اور حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام کی ذمہ داری بڑی حد تک وفاقی وزارتِ صحت پر ہے ۔

مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/addressing-healthcare-challenges-in-pakistan-a-multi-faceted-approach/

پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ پرائیوٹ  اور سرکاری شعبہ پر مشتمل ہے ۔پاکستان میں نظامِ صحت کی حالت یہ ہے کہ پرائیوٹ شعبہ ، آبادی کا تقریباً 70 فیصد حصے کو سہولیات فراہم کر رہا ہے ۔ نجی شعبہ جو سہولیا ت لوگوں کو فراہم کر رہا ہے وہ اس کے لیے اپنی فیس وصول کرتا ہے اور یہ فیس ایک متوسط فرد یا غریب فرد ادا نہیں کر سکتا۔ صحت کا نظام اس قدر خراب ہے کہ نہ تو نجی اور نہ ہی سرکاری شعبے ریگولیٹری فریم ورک کے اندر کام کرتے ہیں ۔

پاکستان میں کوالیفائیڈ پیرا میڈیکل اسٹاف، ڈاکٹر، نرسز کی کمی ہے۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کے حوالے سے اقدامات کیے تو جار ہے ہیں لیکن اس کے کوئی دور رس نتائج نہیں آرہے۔ خواتین کے لیے صحت کے معاملات میں سب سے اہم زچگی اور زچگی کے دوران لاحق ہونے والے پچیدہ امراض ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں زچگی کے دوران خواتین کی شرح اموات بہت زیاد ہ ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 30 فیصد سے بھی کم آبادی کو پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹرز کی سہولیات تک رسائی حاصل ہے ۔ اوسطً ہر فرد ایک سال میں ایک سال سے بھی کم ہیلتھ کیئر سینٹرز تک جاتا ہے ۔ ہیلتھ کیئرسینٹرز میں جانے میں عدم دلچسپی کی وجہ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد اور خاص طور پر وہاں خواتین کی کمی ، غیر حاضری کی اعلٰی شرح ، سہولیات کا ناقص معیار اور ادویات کی عدم دستیابی شامل ہے ۔ جبکہ دوسری طرف پاک فوج ، پاکستان ریلوے ، اٹامک انرجی اور بہت سے دیگر ادارے ایسے بھی ہیں جو اپنے ملازمین کو بہترین صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: https://republicpolicy.com/the-tragedy-of-mbbs-and-the-rise-of-medical-mafia/

صحت کی بہترین سہولیات عوام کو فراہم کرنا حکومتوں کی اولین ترجیح ہو نی چاہیے۔  وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ مل بیٹھ کر عوام کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے واضح اور جامع پالیسی مرتب کریں ۔ نئے جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل ہسپتال بنائے جائیں ۔نئے ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز کو ملازمتیں دی جائیں ۔ پیشہ ور نرسز کو تعینات کیا جائے  ۔ ہسپتالوں میں دوائی کی فراہمی اور دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔  تاکہ غریب عوام کو بہتر اور مفت صحت کی سہولیات میسر آ سکیں اور اُنکا معیارِ زندگی بہتر ہو سکے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos