پاکستان میں ٹیکس ناانصافی اور قانونی کاروبار کی مشکلات

[post-views]
[post-views]

ظفر اقبال

پاکستان کا باقاعدہ کاروباری شعبہ ایک ایسے خاموش مگر سنگین مسئلے کا شکار ہے جس نے قانونی طریقے سے کاروبار کرنے والوں کے لیے حالات مشکل بنا دیے ہیں۔ جو قوانین بازار میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے، عملی طور پر وہ انہی کاروباروں کے لیے بوجھ بن چکے ہیں جو ٹیکس ادا کرتے اور قانون کی پابندی کرتے ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر روزمرہ استعمال کی اشیا بنانے والی صنعت میں زیادہ واضح نظر آتی ہے، جہاں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ کاروباروں کے درمیان فرق اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ قانونی کاروبار کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔

پاکستان میں جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد ہے، جو ایک ترقی پذیر اور قیمتوں کے لحاظ سے حساس معیشت کے لیے پہلے ہی بہت زیادہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے باوجود مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ غیر رجسٹرڈ دکانداروں کو فروخت پر اضافی 4 فیصد ٹیکس اور بعض اشیا پر مزید 2 فیصد انکم ٹیکس بھی عائد کیا جاتا ہے۔ اس طرح قانونی کاروبار کرنے والی کمپنیوں پر تقریباً ساڑھے چھ فیصد اضافی بوجھ پڑتا ہے، جبکہ غیر رسمی کاروبار یہ بوجھ برداشت نہیں کرتے۔ ایسے بازار میں جہاں چند روپے قیمت کا فرق بھی فروخت پر اثر انداز ہوتا ہے، یہ صرف مالی دباؤ نہیں بلکہ ایک ساختی ناانصافی ہے۔

مسئلے کی شدت اس حقیقت سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ پاکستان میں 90 فیصد سے زیادہ دکاندار ٹیکس نظام سے باہر ہیں۔ وہ نہ رجسٹرڈ ہیں اور نہ ہی ریاستی نگرانی میں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں تاجروں کو ٹیکس نظام میں لانے کے لیے مختلف اسکیمیں متعارف کرائی گئیں، مگر ان کے نتائج نہ ہونے کے برابر رہے۔ حالیہ “تاجر دوست اسکیم” بھی اسی ناکامی کی مثال بنی۔ چھوٹے تاجروں کی مزاحمت کی وجہ واضح ہے: رجسٹریشن کے بعد ٹیکس، آڈٹ اور دیگر ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، جبکہ غیر رجسٹرڈ کاروبار ان پابندیوں سے آزاد رہتے ہیں۔

دوسری جانب باقاعدہ کمپنیاں ایک مشکل صورتحال میں پھنس چکی ہیں۔ اگر وہ غیر رجسٹرڈ دکانداروں سے کاروبار ختم کریں تو ان کی مصنوعات ملک کے بیشتر علاقوں میں مارکیٹ سے غائب ہو جائیں گی۔ اور اگر وہ اضافی ٹیکس خود برداشت کریں تو ان کے منافع میں مسلسل کمی آتی رہے گی۔ اکثر صورتوں میں نقصان قانونی کاروبار ہی اٹھاتا ہے جبکہ غیر رسمی شعبہ فائدہ حاصل کرتا ہے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا موجودہ نظام غیر دستاویزی کاروبار کو قابو میں لانے کے بجائے انہی لوگوں کو سزا دیتا ہے جو پہلے سے قانون کے دائرے میں موجود ہیں۔ فائلر اور نان فائلر کی پالیسی بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکی اور ٹیکس نیٹ بڑھانے میں ناکام رہی۔

اس مسئلے کے حل کے لیے سیلز ٹیکس قانون کے “تھرڈ شیڈول” کو مزید شعبوں تک توسیع دینا ایک مؤثر قدم ہو سکتا ہے۔ اس نظام کے تحت بعض اشیا پر قیمت پہلے سے پیکنگ پر درج ہوتی ہے اور ٹیکس مینوفیکچرر کی سطح پر وصول کیا جاتا ہے، جس سے ٹیکس چوری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر اس نظام کو گھی، دودھ، ڈیری مصنوعات، بچوں کے دودھ، فروزن فوڈ، آٹا اور نوڈلز جیسی اشیا تک بڑھا دیا جائے تو ٹیکس وصولی زیادہ شفاف ہو سکتی ہے۔

اس سے نہ صرف قیمتوں میں شفافیت آئے گی بلکہ قانونی کاروبار کو غیر ضروری اضافی بوجھ سے بھی نجات ملے گی۔ صارفین کو من مانی قیمتوں سے تحفظ ملے گا جبکہ حکومت کو بھی زیادہ مؤثر انداز میں ٹیکس وصول ہوگا۔

پاکستان کو ایسے ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جو قانون کی پابندی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے، نہ کہ انہیں نقصان میں ڈال دے۔ موجودہ ڈھانچہ اس کے برعکس کام کر رہا ہے، اور اصلاحات کا آغاز اسی بنیادی مسئلے کو درست کرنے سے ہونا چاہیے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos