Zafar Iqbal
پاکستان جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک قدرتی تجارتی راہداری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس منفرد محلِ وقوع کے باوجود پاکستان آج بھی ایشیا کی کم ترین علاقائی معاشی انضمام رکھنے والی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ حقیقت صرف جغرافیائی امکانات کے ضائع ہونے کی نہیں بلکہ ایسی معاشی حکمتِ عملی کی بھی عکاس ہے جس نے ملکی صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری کو محدود کر دیا ہے۔ جب دنیا کے مختلف خطے باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں، پاکستان ابھی تک اپنے قریبی ہمسایہ ممالک کی منڈیوں سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکا۔
گزشتہ مالی سال کے تجارتی اعداد و شمار اس کمزوری کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستان نے خطے کے نو ممالک کو تقریباً تین ارب نوے کروڑ ڈالر کی برآمدات کیں، لیکن ان میں سے دو تہائی سے زیادہ صرف چین کو بھیجی گئیں۔ باقی تمام ہمسایہ ممالک مل کر ایک تہائی سے بھی کم برآمدات حاصل کر سکے۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ مجموعی علاقائی برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں گیارہ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اپنے قریبی خطے میں متبادل برآمدی منڈیاں پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
درآمدات کا جائزہ لیا جائے تو عدم توازن مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً بیس ارب ڈالر کی درآمدات علاقائی ممالک سے کیں، جن میں سے اٹھانوے فیصد صرف چین سے آئیں۔ چین بلاشبہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور صنعتی مشینری، خام مال، الیکٹرانکس، کیمیکلز اور دیگر ضروری مصنوعات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم کسی ایک ملک پر اس حد تک انحصار طویل مدت میں معاشی خطرات کو جنم دیتا ہے۔ مضبوط معیشتیں ہمیشہ اپنی درآمدات اور برآمدات کے ذرائع کو متنوع بناتی ہیں تاکہ عالمی بحرانوں یا تجارتی رکاوٹوں کی صورت میں ان کی معیشت شدید متاثر نہ ہو۔
افغانستان کے ساتھ تجارت کی صورتحال بھی پاکستان کے لیے سبق آموز ہے۔ چین کے بعد افغانستان پاکستان کی علاقائی برآمدات کی دوسری بڑی منڈی رہا ہے۔ پاکستانی خوراک، ادویات، ٹیکسٹائل، تعمیراتی سامان اور دیگر مصنوعات برسوں سے افغان منڈی میں اپنی جگہ بنائے ہوئے تھیں۔ تاہم گزشتہ برس اکتوبر سے دوطرفہ تجارت معطل ہونے کے باعث پاکستانی برآمدات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کا براہِ راست نقصان پاکستانی صنعتکاروں، تاجروں اور برآمد کنندگان کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
سرحدی تجارت کی بندش صرف برآمد کنندگان تک محدود مسئلہ نہیں ہوتی۔ اس سے ٹرانسپورٹ کا شعبہ، گودام، کسٹمز، سرحدی کاروبار اور ہزاروں مزدور بھی متاثر ہوتے ہیں۔ جب قریبی منڈیاں بند ہو جائیں تو صنعتوں کی پیداوار محدود ہو جاتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور کاروباری اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ جب خریدار متبادل سپلائرز کی طرف منتقل ہو جائیں تو کھوئی ہوئی منڈی دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں رہتا۔
دنیا کے مختلف خطوں نے گزشتہ چند دہائیوں میں علاقائی تعاون کو ترقی کا بنیادی ذریعہ بنایا ہے۔ یورپی یونین نے مشترکہ منڈی قائم کرکے تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار میں بے مثال اضافہ کیا۔ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک نے آسیان کے ذریعے اپنی معیشتوں کو مضبوط بنایا۔ افریقی ممالک بھی آزاد تجارتی معاہدوں کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ حتیٰ کہ سیاسی اختلافات رکھنے والے ممالک بھی یہ سمجھ چکے ہیں کہ معاشی تعاون مشترکہ خوشحالی اور استحکام کا ذریعہ بنتا ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان اب بھی کئی مواقع پر معاشی مفادات کے بجائے سیاسی اختلافات کو ترجیح دیتا ہے۔ حالانکہ اس کی جغرافیائی حیثیت اسے ایک قدرتی تجارتی مرکز بننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اگر پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت کا مؤثر رابطہ بن جائے تو نہ صرف ملکی صنعت کو فروغ مل سکتا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
حکومت کو اپنی علاقائی تجارتی پالیسی پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی چاہیے۔ برآمدات میں اضافہ صرف اندرونی اصلاحات سے ممکن نہیں بلکہ نئی منڈیوں تک رسائی، غیر ضروری تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے، سرحدی انفراسٹرکچر کی بہتری، جدید کسٹمز نظام اور بہتر نقل و حمل کے ذریعے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اقتصادی سفارت کاری کو قومی ترقی کی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
علاقائی تجارت کو صنعتی ترقی کے ساتھ جوڑنا بھی ضروری ہے۔ پاکستانی صنعتیں اس وقت تک عالمی سطح پر مؤثر مقابلہ نہیں کر سکتیں جب تک انہیں وسیع منڈیاں میسر نہ ہوں۔ ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، زرعی مصنوعات، ادویات، انجینئرنگ مصنوعات، غذائی اشیا، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور خدمات کے شعبے علاقائی تجارت سے نمایاں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بڑی منڈیوں تک رسائی سرمایہ کاری، تحقیق، معیار میں بہتری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اگرچہ یہ ترسیلات ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں، لیکن کسی بھی مضبوط معیشت کی بنیاد مستقل برآمدات ہوتی ہیں۔ درآمدات کی ادائیگی زیادہ تر برآمدی آمدنی سے ہونی چاہیے، نہ کہ صرف بیرون ملک کام کرنے والے شہریوں کی کمائی سے۔ پائیدار معاشی استحکام اسی صورت میں ممکن ہے جب پاکستان اپنی برآمدات میں مسلسل اضافہ کرے۔
قریبی علاقائی منڈیاں پاکستانی مصنوعات کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتی ہیں۔ کم نقل و حمل کا خرچ، مختصر ترسیلی وقت، ثقافتی قربت اور پرانے تجارتی روابط پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے قدرتی فائدہ ہیں۔ اگر مناسب حکومتی پالیسیاں اختیار کی جائیں تو زرعی اجناس، ادویات، ٹیکسٹائل، تعمیراتی سامان، انجینئرنگ مصنوعات، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل خدمات جیسے شعبے علاقائی تجارت میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ برآمدی شعبے کی مسابقتی صلاحیت بڑھانا بھی ناگزیر ہے۔ توانائی کے کم نرخ، جدید انفراسٹرکچر، بہتر لاجسٹکس، آسان کاروباری قوانین، سستی مالی سہولتیں، جدید ٹیکنالوجی اور ہنرمند افرادی قوت کے بغیر برآمدات میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں ہوگا۔
علاقائی تجارت صرف معاشی سرگرمی نہیں بلکہ طویل المدتی استحکام کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ جب ممالک کے درمیان تجارتی روابط مضبوط ہوتے ہیں تو مشترکہ معاشی مفادات سیاسی اختلافات کو کم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیشتر کامیاب خطوں نے تجارت کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنایا ہے۔
پاکستان کے پاس محلِ وقوع، صنعتی صلاحیت، کاروباری مہارت اور علاقائی روابط جیسے تمام بنیادی وسائل موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قومی تجارتی پالیسی کو معاشی حقیقتوں کے مطابق ترتیب دیا جائے۔ اگر پاکستان اپنی برآمدات بڑھانا، صنعتی ترقی حاصل کرنا، بیرونی مالی دباؤ کم کرنا اور نوجوان آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کو نئی ترجیح دینا ہوگی۔ علاقائی معاشی انضمام پاکستان کے لیے صرف ایک انتخاب نہیں بلکہ مستقبل کی معاشی ضرورت بن چکا ہے۔









