امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان نے بدھ کے روز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود حالات کے بارے میں وضاحت طلب کرلی۔ یہ مطالبہ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں طیارہ بردار بحری جہاز کی ریکارڈ مدت تک جاری رہنے والی تعیناتی کے دوران خوراک کی قلت، نکاسی آب کے نظام کی خرابی اور ذہنی صحت کے بحرانوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے نام بدھ کو لکھے گئے خط میں سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے بحریہ سے مطالبہ کیا کہ وہ طیارہ بردار بحری جہاز پر موجود حالات کے بارے میں جواب دے۔ انہوں نے کہا کہ جہاز ’’۲۵۰ سے زیادہ دنوں سے تعینات ہے‘‘ اور ’’۲۰۰ سے زائد دنوں سے کسی بندرگاہ پر لنگر انداز نہیں ہوا‘‘، جس کے باعث مسلسل سمندر میں رہنے کے حوالے سے ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔
بلومینتھل نے اتنی طویل تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جہاز پر بنیادی ضروری اشیا کی قلت، پانی کی آلودگی، نکاسی آب کے مسائل، بگڑتی ہوئی ذہنی صحت، عرشے پر حفاظتی خدشات اور دیگر مشکلات سے متعلق وسیع پیمانے پر سامنے آنے والی اطلاعات کا حوالہ دیا۔
سینیٹر روبن گالیگو نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ ’’رپورٹ کیے گئے تشویش ناک حالات کی تحقیقات کے لیے دو جماعتی سینیٹ وفد کے ساتھ یو ایس ایس لنکن کا باضابطہ معائنہ کیا جائے۔‘‘
یو ایس ایس ابراہم لنکن نے ۲۱ نومبر ۲۰۲۵ کو کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو سے بحیرہ جنوبی چین میں تعیناتی کے لیے سفر شروع کیا تھا، تاہم ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے قبل اسے مشرقِ وسطیٰ کی جانب بھیج دیا گیا۔
حالیہ دو اجلاسوں کے دوران اہل خانہ نے بحریہ کی قیادت کے ساتھ جہاز پر موجود مشکل حالات، جن میں خوراک کی قلت بھی شامل ہے، پر شدید اختلاف کیا۔ خبر کے مطابق لنکن پر تقریباً ۵ ہزار بحری اہلکار اور میرینز موجود ہیں، جن کے اہل خانہ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ انہیں بتایا جائے کہ ان کے پیارے کب وطن واپس آئیں گے۔
رپورٹس کے مطابق جہاز پر بعض اہلکاروں کو شدید ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور خودکشی کی کوششوں کے واقعات بھی پیش آئے۔
گالیگو نے بدھ کو اپنے بیان میں لکھا کہ ’’عملے کے ارکان کی جانب سے جہاز سے چھلانگ لگانے کی دھمکیوں کی اطلاعات اس بات کی انتہائی تشویش ناک علامت ہیں کہ صورتحال کس قدر خراب ہو چکی ہے۔‘‘ انہوں نے جہاز پر پھپھوندی زدہ غسل خانے، وقفے وقفے سے دستیاب گرم پانی، راشن کے تحت دی جانے والی خوراک اور صابن، خراب بیت الخلا اور بغیر کسی تعطیل کے روزانہ ۱۲ سے ۱۶ گھنٹے تک جاری رہنے والی سخت ڈیوٹی کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس جنگ کے دوران امریکی فوجی اہلکاروں کے ساتھ کیا جانے والا سلوک نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔
امریکی بحریہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔









