اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے مصنوعی ذہانت کے ایک نظام نے خودمختار طور پر ایک دوسری اے آئی کمپنی کے کمپیوٹر سسٹمز میں نقب لگائی، جسے چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی نے سائبر سیکیورٹی کا “غیر معمولی” واقعہ قرار دیا ہے۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے منگل کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا، “ماڈلز کی جانچ کے دوران ہمیں ایک اہم سیکیورٹی واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔”
جس کمپنی کو نشانہ بنایا گیا وہ ہگنگ فیس تھی، جس نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ اس کے ڈیٹا پروسیسنگ سسٹمز میں دراندازی کی گئی ہے۔ اس وقت کمپنی کو شبہ تھا کہ حملہ کسی انسانی ہیکر کے بجائے ایک خودمختار اے آئی ایجنٹ نے کیا ہے۔ ہگنگ فیس کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کلیمنٹ ڈیلانگ نے کہا، “ہمیں گزشتہ ہفتے ہی شبہ ہو گیا تھا کہ یہ سائبر حملہ کسی فرنٹیئر اے آئی لیب کی جانب سے ہو سکتا ہے، کیونکہ حملہ آور ایجنٹ غیر معمولی حد تک پیچیدہ تھا۔ اب معلوم ہو گیا کہ واقعی ایسا ہی تھا!”
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تیزی سے طاقتور ہوتے اے آئی ماڈلز کی سائبر صلاحیتوں پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ انہی خدشات کے پیش نظر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت جدید ترین اے آئی نظاموں کے قومی سلامتی سے متعلق خطرات کا وفاقی سطح پر جائزہ لیا جا سکے گا، اور عوامی اجرا سے قبل ایک ماہ تک جانچ کی جا سکے گی۔
ڈیلانگ نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اوپن اے آئی کے ساتھ مل کر واقعے کی تفصیلات جاننے پر کام کیا، اور ان کے مطابق اس دراندازی کے پیچھے کسی بدنیتی کا عنصر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، “یہ حقیقت حیران کن ہے کہ یہ سب کچھ خودمختار انداز میں ہوا۔” ان کے بقول، ممکن ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو۔
اوپن اے آئی نے اپنے بیان میں تسلیم کیا کہ مصنوعی ذہانت سافٹ ویئر کی کمزوریوں کو تلاش کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی رفتار کو تیز کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس واقعے کا بنیادی سبق یہ ہے کہ ماڈلز کی سیکیورٹی کو ان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھنا ہوگا۔ اوپن اے آئی نے کہا کہ جیسے جیسے زیادہ طاقتور سائبر صلاحیتوں والے ماڈلز عام ہوں گے، ایسے واقعات میں اضافہ متوقع ہے۔ اسی لیے کمپنی نے ابتدائی نتائج فوری طور پر جاری کیے ہیں تاکہ دفاعی ماہرین سمجھ سکیں کہ کیا ہوا اور موجودہ ماڈلز کی صلاحیتوں کا درست اندازہ لگا سکیں۔ کمپنی نے مزید بتایا کہ ہگنگ فیس کے ساتھ مشترکہ تحقیقات جاری ہیں اور کمزوریوں سے متعلق مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
ڈیلانگ نے اس واقعے کو اپنے دیرینہ مؤقف کی تصدیق قرار دیتے ہوئے کہا، “اے آئی سیفٹی کسی ایک کمپنی کے خفیہ طور پر کام کرنے سے حاصل نہیں ہوگی۔ یہ کھلے، باہمی تعاون پر مبنی طریقے سے اور ہر دفاعی ماہر کو اے آئی تک وسیع رسائی دے کر ہی ممکن ہوگی۔”
اوپن اے آئی کے مطابق یہ دراندازی اس کے متعدد ماڈلز کے امتزاج کا نتیجہ تھی، جن میں حال ہی میں متعارف کرایا گیا اور ایک اس سے بھی زیادہ طاقتور، مگر ابھی تک غیر جاری شدہ، ماڈل شامل تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی نظام نے چوری شدہ اسناد استعمال کیں، ایک پہلے سے نامعلوم کمزوری دریافت کی اور ہگنگ فیس کے سرورز تک رسائی حاصل کی۔ اوپن اے آئی کے مطابق ماڈل نے ایک محدود نوعیت کے ٹیسٹنگ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے اور بالآخر خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر لی تاکہ اپنی ہی جانچ کے نتائج میں دھوکا دے سکے









