پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ملک کے شورش زدہ جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ کے دوران ۱۰ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ اسی دوران بدھ کے روز ایک گاڑی میں نصب بم وقت سے پہلے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں قریب واقع ایک گھر میں موجود تین افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ دھماکا خیز مواد نصب کرنے میں مصروف آٹھ جنگجو بھی مارے گئے۔
یہ جھڑپیں حکومت کی جانب سے اس کارروائی کا حصہ تھیں جس کا ہدف ان افراد کو قرار دیا گیا ہے جنہیں حکام ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کے ارکان کہتے ہیں۔ پاکستانی حکام اس اصطلاح کو بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور الزام عائد کرتے ہیں کہ انہیں بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے۔ نئی دہلی پاکستان میں جنگجوؤں کی حمایت کرنے کے الزام کی تردید کرتا ہے۔
فوج کے مطابق کارروائی کے دوران دو فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ گاڑی میں نصب بم کا دھماکا صوبے کے ضلع سوراب میں پیش آیا۔
بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا لیکن آبادی کے اعتبار سے سب سے کم آباد صوبہ ہے۔ یہاں طویل عرصے سے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی قیادت میں علیحدگی پسند شورش جاری ہے۔ اس تنظیم نے حالیہ برسوں میں متعدد حملے کیے ہیں جن میں اکثر سکیورٹی فورسز، چینی مفادات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
صوبے میں پاکستانی طالبان کی جانب سے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ یہ ایک الگ تنظیم ہے جو افغان طالبان کے ساتھ اتحادی تعلق رکھتی ہے۔









