Premium Content

کیا سابق وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تفتیش بھی سیاست کی نذر ہو رہی ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

سابق وزیر اعظم عمران خان پر گذشتہ برس تین نومبر کو پنجاب کے شہر وزیر آباد میں ہونے والے حملے کے مقدمے کی تفتیش اب تک اِسی بحث سے آگے نہیں نکل پائی کہ آیا سابق وزیر اعظم کو چار گولیاں لگی تھیں یا محض گولیوں کے ٹکڑے، حملہ آور ایک تھا یا ایک سے زیادہ اور حملہ ایک طرف سے ہوا یا مختلف اطراف سے۔

بی بی سی نے اس معاملے پر جن تجزیہ کاروں سے بات کی ہے وہ بہرحال ایک بات پر متفق ہیں اور وہ یہ کہ بظاہر متعلقہ حکام اور سیاسی جماعتیں اس مقدمے کی تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کم اور اس معاملے پر سیاست اور ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔

جائے وقوعہ سے گرفتار ہونے والے ملزم نوید احمد کا پولیس کی حراست میں دیا گیا اعتراف جرم پر مبنی ویڈیو بیان ہو، عمران خان کا فوری طبی امداد کے لیے کسی قریبی ہسپتال کے بجائے لاہور کے شوکت خانم ہسپتال پہنچنا ہو، یا اس واقعے میں معظم گوندل نامی شہری کی ہلاکت، یہ سب ایسے واقعات ہیں جنھیں اب بظاہر فقط سیاسی مقاصد اور پوائنٹ سکورنگ کے لیے ہی استعمال کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور اُن کی جماعت کے دیگر رہنما اسی ایک نکتے پر بضد ہیں کہ یہ حملہ ’سوچا سمجھا منصوبہ‘ تھا جس کے لیے حکمران جماعت نے باقاعدہ اور منظم منصوبہ بندی کی۔ تحریک انصاف شد و مد سے یہ دعویٰ بھی کرتی ہے کہ حکومتی مؤقف کے برعکس حملہ آور ایک سے زیادہ تھے۔

اس دعوے کے برعکس اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی پنجاب پولیس کے پانچ افسران پر مشتمل ٹیم ابھی تک کی تحققیات کے نتیجے میں یہ دعویٰ کرتی ہے کہ انھیں اس مقدمے کے مرکزی ملزم نوید احمد کے علاوہ دیگر افراد کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی شواہد نہیں ملے۔

دوسری جانب مرکز میں حکمران جماعت مسلم لیگ نواز بھی اس حملے کو خالصتاً ملزم نوید احمد کی کارروائی قرار دیتی ہے جس میں اور کسی فرد کا عمل دخل نہیں تھا۔

’ملزم نوید کا کسی کے ساتھ رابطہ نہیں تھا‘

اس ضمن میں اس تحقیقاتی ٹیم نے ایک خط بھی اعلیٰ حکام کو لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کو اب تک کوئی ایسا ریکارڈ دستیاب نہیں ہو سکا جو اس بات کی تصدیق کرتا ہو کہ حملہ آور ایک سے زیادہ تھے۔

اس خط  میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس بات کے بھی شواہد نہیں ملے کہ حملے سے قبل ملزم نوید کا اس سلسلے میں کسی دوسرے فرد کے ساتھ موبائل پر رابطہ تھا۔

یہ بھی بتایا گیا کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ایک اور ملزم وقاص کا کردار ایک سہولت کار سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

سی سی پی او لاہور غلام محمد ڈوگر اس تحققیاتی ٹیم کے کنوینئیر ہیں جبکہ اس ٹیم میں دیگر چار ارکان شامل ہیں تاہم جہاں تک اس تحقیقاتی ٹیم کی بات ہے تو اس کے ارکان بھی تمام معاملات پر متفق نہیں۔

اس مقدمے کی تفتیش کو جس انداز میں آگے لے کر جایا جا رہا ہے، اس پر تحقیقاتی ٹیم کے اپنے ہی ایک رکن نے 17 دسمبر کو اعتراض اٹھایا تھا اور مبینہ طور پر اسی اعتراض کے باعث اُس پولیس افسر کو 29 دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں طلب ہی نہیں کیا گیا۔

اس پولیس افسر نے ایک خط کے ذریعے اعتراض اٹھایا تھا کہ اس مقدمے کی تفتیش میں اُن کی رائے کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔

تحقیقاتی ٹیم کے رکن کے اسی اعتراض کے بعد سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا جس میں انھوں  نے الزام عائد کیا  کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے افسران کو ’کچھ بااثر افراد‘ دباؤ میں لا کر اُن کی رائے کو منقسم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس افسر کے خط میں دو وفاقی وزرا، میاں جاوید لطیف اور مریم اورنگزیب کے خلاف لاہور کے تھانہ گرین ٹاؤن میں درج ایک مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ اس مقدمے کی تفتیش ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی مگر دوسری جانب اس مقدمے کو بنیاد بنا پر اس کو عمران خان پر حملہ کرنے کے واقعے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے جو کسی طور مناسب نہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس 19 ستمبر کو میاں جاوید لطیف اور مریم اورنگ زیب کے خلاف اس بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا کہ انھوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے مختلف بیانات کے حصوں کو اکھٹا کر کے عوامی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ عمران خان توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں اور وزرا کے اس اقدام کی وجہ سے عمران خان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوئے۔

عمران خان پر حملے کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ سے متعلق تمام پہلوؤں پر پیشہ وارانہ طریقے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ٹیم کے ارکان کسی بھی سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لا رہے اور جو شواہد ان کے سامنے لائے جا رہے ہیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس معاملے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے ارکان نے ابھی تک سابق وزیر اعظم کا بیان بھی قلمبند نہیں کیا۔

 اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے رکن سے جب پوچھا گیا کہ عمران خان کا بیان ابھی تک کیوں ریکارڈ نہیں کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ کمیٹی ابھی اس فیصلے پر نہیں پہنچی کہ آیا عمران خان کا بیان ریکارڈ کرنا ہے یا نہیں۔

تاہم تفتیشی ٹیم کے رکن کا کہنا تھا کہ اس حملے میں زخمی ہونے والے دس دیگر افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں بشمول وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور عطا تارڑ کو بھی اعانت مجرمانہ میں شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جب اس بابت سوال رکن سے پوچھا گیا اُن کا کہنا تھا کہ محض بیانات کی بنیاد پر کسی کو اس جرم میں شامل تفتیش نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اس ضمن میں تحریک انصاف کی طرف سے کوئی ٹھوس شواہد بھی فراہم نہیں کیے گئے۔

تفتیشی ٹیم میں محکمہ اینٹی کرپشن کے افسر کی شمولیت

عمران خان پر حملے کے مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں پنجاب کے محکمہ انسداد بدعنوانی کے ڈپٹی ڈائیریکٹر ویجیلنس انور شاہ کو بھی شامل کیا گیا ہے جس پر چند حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی۔

فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل جاوید میر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم کے کنوینئیر کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ تفتیش میں معاونت کے لیے کسی بھی محکمے کے افسر کی خدمات حاصل کر سکتا ہے اور ایسے ممبر کو ’اپٹیڈ ممبر‘ کہتے ہیں کیونکہ اس ممبر کا کام تفتیش کاروں کی اعانت کرنا ہوتا ہے اور ایسے ممبر کو تفتیش کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ ضابطہ فوجداری کے تحت درج ہونے والے مقدمے کی تفتیش کوئی پولیس اہلکار ہی کر سکتا ہے اور کسی دوسرے کو یہ اختیار تفویض نہیں کیا جا سکتا۔

تحقیقاتی ٹیم کے کچھ ارکان نے انور شاہ کی شمولیت اور تفتیش کے معاملات میں مبینہ دخل اندازی پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ تفتیشی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ اس بارے میں ٹیم کے کنوینئیر کو بھی متعدد بار ممبران کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا تھا

’سی سی پی او پی ٹی آئی ورکر بن کر تفتیش کر رہے ہیں‘

وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان پر حملے کے فوراً بعد وفاقی حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا اعلان کیا تھا جس میں آئی ایس آئی کے علاوہ آئی بی کے اہلکاروں کو بھی شامل کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن پنجاب حکومت نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ اس کے باوجود  وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کو اس کی تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

عطا تارڑ  نے سی سی پی او لاہور اور اس مقدمے کے کنوینر غلام محمود ڈوگر پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقدمے کی تفتیش ایک پولیس افسر بن کر نہیں بلکہ پی ٹی آئی ورکر بن کر کر رہے ہیں۔

الزامات اپنی جگہ مگر حملہ ہوئے دو ماہ سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے مگر ابھی تک اس مقدمے کا چالان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمع نہیں کروایا جا سکا۔

تفتیش کرنے والی ٹیم کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ ملزم نوید احمد کی حد تک اس مقدمے کی تفتیش مکمل کرلی گئی ہے اور اگلے دو ہفتوں میں حتمی چالان متعقلہ عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔

ٹیم کے رکن کے مطابق اس مقدمے میں ایک شخص محمد وقاص کو بھی حراست میں لیا گیا، جس کا کردار ابھی تک محض سہولت کار کا ہی سامنے آیا ہے۔

ٹیم کے رکن کے مطابق ملزم وقاص کو 17 جنوری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

’میرے مؤکل پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ نواز شریف کا نام لے‘

اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزم محمد نوید کے وکیل میاں داود نے بی بی سی کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت  کے جج کی اجازت کے بعد انھوں نے اپنے مؤکل سے ملاقات کی تو انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکار ان کی والدہ، بھائی محمد شفیق اور بھانجے علی رضا کو گرفتار کر کے لائی اور والدہ کی موجودگی پر پولیس اہلکاروں نے ان دونوں افراد پر تشدد کیا اور جن کی چیخیں ان کی والدہ کو بھی سنائی جاتی تھیں۔

میاں داود نے کہا کہ ان کے مؤکل نے ملاقات کے دوران بتایا کہ جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس حکام کی طرف سے ان پر دباؤ ڈالا جاتا تھا کہ وہ یہ بیان دے دیں کہ انھوں (نوید) نے عمران خان پر حملہ نواز شریف کے کہنے پر کیا۔

ملزم نوید کے وکیل نے عمران خان اور اس واقعہ میں زخمی ہونے والے دیگر افراد کے پولی گرافک ٹیسٹ کروانے کے لیے بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹس بھی جاری کیا ہے۔

واضح رہے کہ دستاویزات کے مطابق ملزم نوید 53 روز تک پولیس کی تحویل میں رہے جبکہ 14 روز تک پولیس نے انھیں غیر قانونی حراست میں رکھا۔ گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم نوید کو نو جنوری کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور اب انھیں دوبارہ 23 جنوری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے کا چالان عدالت میں جمع ہونے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر عدالتی کارروائی ہوتی ہے جس کو سات روز میں مکمل کیا جانا ضروری ہے۔

’فرانزک رپورٹ چالان کا حصہ ہو گی‘

اس مقدمے کے پراسیکوٹر سلطان صلاح الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ متعقلہ عدالت کے جج نے تفتیشی ٹیم کو حکم دیا ہے کہ وہ 23 جنوری تک اس مقدمے کا چالان عدالت میں جمع کروائیں۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق فرانزک رپورٹ بھی اس حتمی چالان کا حصہ ہو گی۔

یہ فرانزک رپورٹ ابھی تک پبلک نہیں ہوئی اور مشیر داخلہ سرفراز چیمہ کا کہنا ہے یہ رپورٹ جلد عام کر دی جائے گی۔

اس مقدمے کے پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ تفتیشی ٹیم کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عمران خان سمیت اس واقعہ کے چشم دید گواہوں کے بیانات قلمبند کر کے اس کو چالان کا حصہ بنائیں۔

Read more

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos