نعیم افضل
حال ہی میں مجھے ایک ایسے شہر میں رہنے کا موقع ملا جہاں روزمرہ زندگی کے مشاہدات نے مجھے اس نتیجے پر پہنچایا کہ جدید دور کے پیچیدہ مسائل کا حل موجودہ روایتی بیوروکریٹک نظام کے بس کی بات نہیں۔ ہمارے بیشتر شہر ہجوم، گردوغبار اور بدانتظامی کا شکار ہیں۔ پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب راستے موجود نہیں، حتیٰ کہ صبح سویرے بھی فضا شفاف محسوس نہیں ہوتی۔ ٹریفک کا نظام انتہائی ناقص ہے، جبکہ بچے، خواتین اور بزرگ گلیوں میں آزادانہ نکلنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ ہر موڑ پر آوارہ کتوں کا خوف ان کا انتظار کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ شہروں کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری کس پر ہے؟ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں، جہاں بلدیاتی حکومتوں کا کردار تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، تحصیل کا انتظام اسسٹنٹ کمشنر (AC)، ضلع کا ڈپٹی کمشنر (DC)، اور ڈویژن کا کمشنر سنبھالتا ہے۔ دوسری جانب میونسپل اور میٹروپولیٹن کارپوریشنز بھی موجود ہیں، مگر سوائے چند بڑے شہروں جیسے لاہور اور کراچی کے، ان کے پاس نہ اختیار ہے اور نہ ہی مؤثر کردار۔ نظریاتی طور پر یہ ادارے موجود ہیں، لیکن عملی طور پر ان کی موجودگی محسوس نہیں ہوتی۔
میرا ماننا ہے کہ یہ روایتی بیوروکریٹک ڈھانچہ شہروں کو درپیش پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہ نظام نوآبادیاتی دور میں قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، جبکہ آج کے شہروں کو شہری منصوبہ بندی، پانی کے انتظام، ٹریفک، فضائی آلودگی اور ماحولیات جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے ہمیں جدید انسانی وسائل (HR)، ماہرین اور پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے، جو صرف روایتی نظام کو برقرار رکھنے کے بجائے عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔
سب سے پہلے، تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی اور بے ہنگم توسیع کے مؤثر انتظام کے لیے پیشہ ور شہری منصوبہ ساز (Urban Planners) درکار ہیں۔ ہمارے موجودہ انتظامی نظام میں ایک جنرلِسٹ افسر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر قسم کے خصوصی مسائل حل کرے، حالانکہ یہ ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر ایک اسسٹنٹ کمشنر اپنی ضرورت کے مطابق شہری منصوبہ بندی یا ٹریفک مینجمنٹ کے ماہرین کو براہِ راست بھرتی نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ حکومت بھی کسی شعبے کے ماہر کو سیکریٹری مقرر نہیں کر سکتی، کیونکہ اعلیٰ عہدے صرف سول سروس کے مخصوص کیڈر تک محدود ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر ندیم الحق کہتے ہیں، ہمیں ایسے پیشہ ور ماہرین درکار ہیں جو شہروں کے پیچیدہ انتظامی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ موجودہ بیوروکریٹک نظام منڈی (مارکیٹ) کی ترقی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ دنیا بھر میں شہر معاشی ترقی کے انجن سمجھے جاتے ہیں۔ یہیں بڑی صنعتیں، کمپنیاں، کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ شہروں میں ادارے کھلے انسانی وسائل کے نظام کے تحت ماہرین کو ان کی صلاحیت کی بنیاد پر بھرتی کرتے ہیں، نہ کہ محض سینیارٹی یا مستقل ملازمت کے اصول پر۔ وہاں ماہرین کے لیے داخلے اور اخراج کا نظام کھلا ہوتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں ایک افسر اگر گریڈ 17 میں بھرتی ہو جائے تو کارکردگی سے قطع نظر اس کی ترقی کا راستہ تقریباً طے شدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی بینک کا کوئی ماہر لندن کا میئر بن سکتا ہے، لیکن لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کی سربراہی نہیں کر سکتا۔
نجی شعبہ، جو مسابقتی ماحول میں کام کرتا ہے، اکثر عوامی خدمات زیادہ مؤثر انداز میں فراہم کرتا ہے۔ میرے شہر میں پانی سے لے کر انٹرنیٹ تک کئی بنیادی خدمات نجی کمپنیاں فراہم کرتی ہیں۔ میں پینے کا پانی زم زم کمپنی سے خریدتا ہوں۔ ان کی ڈیلیوری بروقت ہوتی ہے، ہیلپ لائن چوبیس گھنٹے فعال رہتی ہے، اور عام شہری ان کے معیار کا خود جائزہ لے سکتے ہیں۔ میں نے خود ان کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں صفائی، تربیت یافتہ عملہ اور معیاری انتظام دیکھنے کو ملا۔
اسی طرح میں وٹین (Wateen) کمپنی کی انٹرنیٹ سروس استعمال کرتا ہوں۔ کچھ عرصہ قبل رفتار میں مسئلہ آیا تو میں نے دوپہر کو شکایت درج کرائی، اور شام تک مسئلہ حل کر دیا گیا۔ بعد ازاں کمپنی نے خود رابطہ کر کے رائے بھی طلب کی۔ اس کارکردگی کی بنیادی وجہ ترغیبات (Incentives) ہیں۔ چونکہ صارف کے پاس متبادل کمپنیاں موجود ہیں، اس لیے ہر ادارہ بہتر خدمات فراہم کرنے پر مجبور ہے۔ وہاں ملازمین کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جاتا ہے، کلیدی کارکردگی اشاریے (KPIs) موجود ہیں، اور ناقص کارکردگی پر ملازم کو فارغ بھی کیا جا سکتا ہے۔
اس حقیقت کو نظریاتی تعصبات سے ہٹ کر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ میرے پاس وسائل ہیں، میں خدمات خریدتا ہوں، اور کمپنیاں مجھے معیاری خدمات فراہم کرتی ہیں کیونکہ انہیں مقابلے کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس سرکاری اداروں میں ملازمت تقریباً عمر بھر کی ضمانت بن جاتی ہے، جہاں بہتر کارکردگی یا عوامی اطمینان کے لیے مؤثر ترغیبات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
آخر میں، ہمیں منڈیوں پر اعتماد کرنا ہوگا اور لوگوں کو کام کرنے کی آزادی دینی ہوگی۔ ہم حکومت سے غیر معمولی وابستگی رکھتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت پینے کے صاف پانی سے لے کر فضائی آلودگی کے خاتمے تک متعدد شعبوں میں مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ معیشت اور معاشرے میں حکومت کا کردار ضرورت سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اس کا دائرہ محدود ہونا چاہیے، کیونکہ موجودہ بیوروکریٹک نظام کاروباری لاگت میں اضافے، عوامی اعتماد کے زوال اور ناقص عوامی خدمات کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔
مصنف ریپبلک پالیسی سے وابستہ محقق ہیں۔









