بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

روبوٹکس اور خودکار نظام کی مقامی ترقی کے لیے قومی اختراعی نظام کی ضرورت: وزیراعظم

[post-views]
[post-views]

وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز تمام متعلقہ اداروں اور فریقوں پر زور دیا کہ وہ ایک مشترکہ قومی اختراعی نظام (نیشنل اِنوویشن ایکو سسٹم) کے تحت متحد ہوں تاکہ پاکستان میں مقامی علم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد مضبوط کی جا سکے۔

انڈس آر اے ایس (روبوٹکس اینڈ آٹونومس سسٹمز) ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے انقلاب کو اپنانا ہوگا، تاہم اس کے فوائد معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچنے چاہییں۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری جامعات، تحقیق و ترقی کے مراکز، نئی کاروباری کمپنیاں، صنعتیں اور کسان ایک ہی قومی اختراعی نظام کا حصہ بنیں، تاکہ ان ٹیکنالوجیز کے پیچھے موجود علم مقامی ہو، ملک کی ملکیت ہو اور مسلسل پاکستان ہی میں ترقی کرتا رہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ روبوٹکس اور خودکار نظام کا انقلاب صرف ترقی یافتہ ممالک، بڑی کمپنیوں یا بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے ذریعے کسانوں، چھوٹے کاروباروں، خواتین کاروباری شخصیات، نوجوان موجدوں اور پاکستان سمیت عالمی جنوب کے محروم طبقات کی زندگیوں میں بہتری آنی چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجیز زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہیں، حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خودکار نظاموں کے محفوظ، شفاف اور انسانیت کے مفاد میں استعمال کو یقینی بنانے کے لیے واضح قانونی اور اخلاقی ضابطے مرتب کرنا ناگزیر ہیں۔

تقریب میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، صنعت سے وابستہ ماہرین، کاروباری شخصیات، غیر ملکی مندوبین اور طلبہ نے شرکت کی۔

وزیراعظم نے دو اہم منصوبوں، اسپارک اور ایلیویٹ، کا اعلان بھی کیا، جن کا مقصد پاکستانی تحقیق کو عالمی معیار کے کاروباری اداروں اور اعلیٰ پیداواری روزگار میں تبدیل کرنا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان وینچر فنڈ کے قیام کا اعلان کیا، جس کے لیے ابتدائی طور پر دو کروڑ ڈالر مختص کیے گئے ہیں تاکہ ملکی ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ روبوٹکس اور خودکار نظاموں کی ترقی صرف ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں بلکہ پچیس کروڑ پاکستانیوں کے عزم، صلاحیت اور بہتر مستقبل کی تعمیر کی داستان ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’پاکستان دوسروں کے فیصلوں کا وارث بننے والا ملک نہیں ہوگا بلکہ اختراع، کاروباری صلاحیت، خودانحصاری اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنی تقدیر خود رقم کرے گا، ان شاء اللہ۔‘‘

وزیراعظم نے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے مثبت اثرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز نے پانی کی قلت، بڑھتی لاگت اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل سے نمٹنے میں کسانوں کی مدد کی ہے، جبکہ قدرتی آفات کے دوران بھی ان ٹیکنالوجیز نے جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دفاعی شعبے میں مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان میں تیار کیے گئے سمیولیٹرز اور ساٹھ فیصد سے زائد مقامی اجزا پر مشتمل ڈرونز اس پیش رفت کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال معرکۂ حق کے دوران بری، فضائی اور بحری افواج نے جدید خودکار نظاموں کے ذریعے ملک کی زمینی اور سائبر سرحدوں کا مؤثر دفاع کیا، جو پاکستان کی مقامی تکنیکی صلاحیت اور قومی عزم کا واضح اظہار ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں قیادت کرنے والے ممالک ہی مستقبل کی معیشت کی سمت متعین کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قومی پالیسی کے تحت روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی مکمل ویلیو چین کا مالک بننے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا ڈیجیٹل نیشن پاکستان وژن ٹیکنالوجی کو قومی پیداواری صلاحیت اور مسابقت بڑھانے کا بنیادی ذریعہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کی برآمدات میں تقریباً اکیس فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ پاکستان نے ای گورننس ڈیولپمنٹ انڈیکس میں چودہ اور آئی ٹی یو آئی سی ٹی ڈیولپمنٹ انڈیکس میں ستائیس درجے بہتری حاصل کی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]