بلاگ تلاش کریں۔

مشورہ

فرانس اور ہسپانیہ میں جنگلاتی آگ سے دو لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

[post-views]
[post-views]

فرانسیسی حکام نے بوردو کے قریب تقریباً ساٹھ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے، جس کے بعد فرانس اور ہسپانیہ میں جنگلاتی آگ کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد دو لاکھ بیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

جنوب مغربی فرانس کے جیروند اور لاند کے علاقوں سے پہلے ہی تقریباً دو لاکھ افراد کو منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ صدر ایمانویل میکرون نے امدادی کارروائیوں کے لیے فوج کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ دوسری جانب میڈرڈ کے مغرب میں بھڑکنے والی آگ تین مختلف مقامات پر لگنے والی آگ کے یکجا ہونے کے بعد اس حد تک پھیل گئی ہے کہ ہسپانوی حکام کے مطابق اب اسے قابو کرنا آگ بجھانے والے عملے کی استطاعت سے باہر ہو چکا ہے۔

ہسپانیہ میں قومی ہنگامی حالت نافذ

ہسپانیہ کی حکومت نے ملک میں قومی ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ پچیس ہزار افراد کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ تقریباً چالیس ہزار افراد کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

میڈرڈ کی علاقائی سربراہ ازابیل دیاز آیوسو نے اسے علاقے کی تاریخ کی بدترین آگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی، مسلسل تیز ہوائیں اور مختلف مقامات کی آگ کا آپس میں مل جانا ایک انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر چکا ہے۔

امدادی حکام کے مطابق آگ روبلیڈو دے چاویلا اور فریسنیدیاس دے لا اولیوا کی جانب بڑھ رہی ہے، جو دارالحکومت سے تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔

میڈرڈ کے ہنگامی انتظامات کے سربراہ کارلوس نوییو نے کہا کہ آگ اپنے عروج پر ہے اور موجودہ حالات میں اسے قابو کرنا ممکن نہیں رہا، اس لیے اب صرف آبادیوں کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ فوج کا خصوصی امدادی دستہ بھی متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

حکام کو خدشہ ہے کہ قریبی صوبے میں لگی دوسری آگ بھی موجودہ آگ سے مل سکتی ہے۔ وزیر داخلہ فرناندو گراندے مارلاسکا نے کہا کہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق آگ سے اٹھنے والے انگارے کئی کئی میل دور تک جا رہے ہیں، جس کے باعث مزید علاقوں کو بھی خالی کرانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

کم از کم چھ ہزار ہیکٹر رقبہ میڈرڈ کے علاقے میں جبکہ تقریباً نو ہزار ہیکٹر رقبہ قریبی صوبے میں جل چکا ہے۔ آٹھ بلدیاتی علاقوں کو مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا ہے جبکہ متعدد دیگر بستیاں بھی خطرے کی زد میں ہیں۔

چھیاسی سالہ ایک متاثرہ شہری نے محفوظ مقام پر پہنچنے کے بعد بتایا کہ اگر کوئی شخص آگ کے سامنے کھڑا رہنے کی کوشش کرے تو یہ اسے لمحوں میں اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

وزیراعظم پیدرو سانچیز نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے ہنگامی مرکز کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس نے آگ لگنے کے ایک واقعے میں ایک شخص کو گرفتار جبکہ دوسرے سے تفتیش شروع کر دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ممکنہ طور پر بھاری مشینری کے غیر محتاط استعمال کے باعث بھڑکی۔

بوردو کے قریب فرانس میں غیر معمولی جنگلاتی آگ

جنوب مغربی فرانس میں تقریباً دو لاکھ افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔

ہفتے کی صبح بوردو کے قریب چار شہروں کے اٹھاون ہزار سے زائد رہائشیوں کو احتیاطاً اپنے گھروں سے نکال لیا گیا۔

جیروند کی جنگلاتی آگ انیس ہزار ہیکٹر سے زائد رقبہ جلا چکی ہے جبکہ تقریباً اسی مکانات مکمل تباہ ہو گئے ہیں۔

مشہور ساحلی جزیرہ نما بھی مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا جہاں سینکڑوں افراد کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک پہنچے۔

امدادی ادارے کے سربراہ مارک ورمولین نے کہا کہ موجودہ صورتحال دو ہزار بائیس کی تباہ کن آگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ شدید خشک سالی کے باعث آگ رات بھر مسلسل پھیلتی رہی۔

وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ فرانس نے اس شدت کی خود اپنی رفتار سے پھیلنے والی آگ پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً پچاس امدادی اہلکار زخمی ہو چکے ہیں اور آگ مسلسل اپنا رخ بدل رہی ہے۔

لاند کے علاقے میں ایک دوسری آگ کے باعث تئیس ہزار سے زائد افراد کو گھروں، سیاحتی مقامات، ایک بزرگوں کی رہائش گاہ اور بچوں کے ایک کیمپ سے منتقل کرنا پڑا۔

مقامی حکام کے مطابق تیز ہواؤں اور چھتیس سے سینتیس درجے تک درجۂ حرارت کے باعث آگ پر جلد قابو پانے کی امید نہیں۔

صدر ایمانویل میکرون نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے یورپی ممالک سے امداد طلب کر لی ہے۔ کئی ممالک سے خصوصی ہیلی کاپٹر اور امدادی وسائل فرانس پہنچ رہے ہیں جبکہ حکومت نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

پورے یورپ میں جنگلاتی آگ کا خطرہ بڑھ گیا

یورپی ممالک نے دونوں متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر روانہ کر دیے ہیں۔ اٹلی میں بھی جنگلاتی آگ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جہاں ایک امدادی اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپ میں درجۂ حرارت عالمی اوسط سے دو گنا زیادہ رفتار سے بڑھا ہے، جس کے باعث جنگلات زیادہ خشک اور آگ کے لیے زیادہ حساس ہو چکے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں برس جنگلاتی آگ نے گزشتہ بیس برسوں کی اوسط کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقبہ جلا دیا ہے، جبکہ ماحولیاتی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں ایسے واقعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]