پیٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں، فیصلہ ابھی نہیں ہوا: وزیرِ پیٹرولیم

[post-views]
[post-views]

وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان زیادہ تر خام تیل خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ عام حالات میں آبنائے ہرمز کے راستے تیل چار سے پانچ دن میں پاکستان پہنچ جاتا ہے، تاہم اب سعودی عرب کی ینبو بندرگاہ سے تیل پاکستان بھیجا جائے گا جسے پہنچنے میں تقریباً پندرہ سے بیس دن لگیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قومی بحری جہاز رانی کے دو جہاز اس وقت آبنائے ہرمز کے قریب پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتِ حال کے باعث سعودی عرب سے آنے والا تیل بردار جہاز پہلے عمان پہنچے گا، جس کے بعد ریفائنریاں تقریباً پندرہ سے بیس دن کے اندر تیل کی فراہمی کے قابل ہوں گی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ اس وقت تیل کی درآمد کے لیے جہازوں کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ اگر کوئی جہاز دستیاب ہو بھی جائے تو اس کے لیے بیمہ حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ایک موقع پر 149 اعشاریہ 87 ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی 78 ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 120 ڈالر تک جا پہنچی ہیں۔

وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق اگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دو ہزار بائیس کی طرح مقرر کی جائیں تو اس سے پیدا ہونے والا مالی خسارہ برداشت کرنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں خام تیل کی اوسط قیمت کے مطابق طے کی جاتی ہیں اور اس طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین پندرہ دن کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔

وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق جمعے کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا جو عالمی منڈی میں اوسط قیمتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی جائیں گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos