وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کو امن کے فروغ اور مذاکراتی کردار کی بدولت عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
پشاور میں منعقدہ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے 9 اپریل کا جلسہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤخر کیا اور وفاقی حکومت کے اجلاسوں میں بھی ملکی مفاد کے پیش نظر شرکت کی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف کے ساتھ مسلسل سیاسی امتیاز برتا جا رہا ہے، کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا جا رہا ہے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اگر یہی طرز عمل جاری رہا تو صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ عدم تعاون اور بائیکاٹ کی پالیسی اپنانے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ امتیازی سلوک بند نہ ہوا تو کسی قسم کی مصلحت باقی نہیں رکھی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کو ان کے ذاتی معالجین اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ دینا بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے تمام محکموں کو ہدایت دی کہ وہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری میں اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔









