بھارت نے دریائے راوی میں ایک لاکھ 85ہزارکیوسک پانی چھوڑدیا، جس سے شکرگڑھ کے سرحدی گاؤں جلالہ میں 70ہزارکیوسک کاریلا داخل ہو گیا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق چک جیدھڑ اورچن مان سنگھ کے کھیتوں میں پانی داخل ہو گیا، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کا کہناہے کہ شکر گڑھ کے علاقے میں سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو ریسکو کرنے کا عمل مکمل کر لیاہے۔
اب تک 301 افراد کو پانی سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے، پانچ خواتین سمیت 60 افراد کو چک جیدھڑ شکرگڑھ سے ریسکو کیا گیا،دھاریوال سے 51 افراد کو بحفاظت دریا کے دوسرے کنارے سے ریسکوکر لیا گیا۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرنعیم اختر کا کہنا تھا کہ چندیاں والی میں 4 افراد کو ریسکو کیا گیا، مان سنگھ اور پیر کنڈیالہ سے 186 افراد کو ریسکو کیا گیا ہے، ریسکوکئے گئے افراد میں 202 مرد، 99 خواتین شامل ہیں۔
دوسری جانب ہیڈ تریموں سے چوبیس گھنٹوں میں ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا ریلہ گزرنے کا امکان ظاہر کیا گیاہے، دریائے چناب کے قریب 20 سے زائد دیہات زیر آب آگئے ہیں،ڈپٹی کمشنرجھنگ کا کہنا تھا کہ 18 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دئیے گئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہناہے کہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جبکہ دریائے چناب میں خانکی اور قادر آباد کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
شکر گڑھ نالہ بین میں بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے،پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ راوی سمیت دیگر دریاؤں میں پانی کا بہاو معمول کے مطابق بہہ رہا ہے،دریاؤں، برجز،ڈیمز اور نالہ جات میں پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی جا رہی ہے۔









