بھارت میں طلبہ کی احتجاجی تحریک: احتساب، جمہوریت اور نوجوانوں کی آواز

[post-views]
[post-views]

Dr Bilawal Kamran

بھارت میں طلبہ کی حالیہ احتجاجی تحریک محض امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف عوامی ردِعمل نہیں بلکہ حکمرانی، شفافیت، احتساب، نوجوانوں کے مستقبل اور جمہوری اقدار کے حوالے سے ایک وسیع قومی مباحثے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ طبی اور تعلیمی داخلہ امتحانات میں سامنے آنے والی بے قاعدگیوں نے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندانوں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں شروع ہونے والا احتجاج اب حکومت کی کارکردگی، ریاستی اداروں کی ذمہ داری اور نوجوانوں کے حقوق کے بارے میں ایک بڑی سیاسی بحث میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اس تحریک کی قیادت سماجی ذرائع ابلاغ کے ذریعے منظم ہونے والی ایک عوامی مہم کر رہی ہے، جس نے ابتدا میں طنزیہ انداز اختیار کیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ نوجوانوں کے احساسِ محرومی، بے روزگاری، تعلیمی ناانصافی اور حکومتی جواب دہی کے مطالبات کی نمائندہ آواز بن گئی۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک سے وابستہ ہو چکے ہیں، جبکہ نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی اجتماعات نے حکومت پر دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔

اس احتجاج کی فوری وجہ متعدد امتحانی تنازعات بنے۔ سب سے نمایاں واقعہ طبی تعلیمی اداروں کے داخلہ امتحان کے سوالیہ پرچے کے افشا ہونے کا تھا، جس کے باعث بیس لاکھ سے زائد امیدواروں کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔ اسی دوران ثانوی درجے کے امتحانات کی آن لائن جانچ کے طریقۂ کار پر بھی شدید اعتراضات سامنے آئے، جس نے عوامی بے چینی کو مزید بڑھا دیا۔ ان واقعات نے یہ سوال پیدا کیا کہ اگر ملک کے اہم ترین امتحانات بھی شفاف انداز میں منعقد نہیں ہو سکتے تو لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کی حفاظت کیسے ممکن ہوگی۔

بھارت میں مقابلے کے امتحانات صرف تعلیمی مراحل نہیں بلکہ سماجی اور معاشی ترقی کا بنیادی ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ لاکھوں طلبہ برسوں کی محنت، وقت اور مالی وسائل صرف اس امید پر خرچ کرتے ہیں کہ انہیں میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ جب امتحانی نظام ہی مشکوک ہو جائے تو نوجوانوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کی محنت اور قابلیت غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔ یہی احساس اس احتجاجی تحریک کی اصل قوت بن گیا ہے۔

نئی دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں طلبہ مسلسل دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ ان کا بنیادی مطالبہ وزیرِ تعلیم کے استعفے اور امتحانی نظام کی مکمل اصلاح ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ جب تک ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی اور امتحانات کے نظام کو شفاف نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک وزیر یا ایک امتحان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا سوال ہے۔

احتجاجی تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب مختلف حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے نہ صرف پارلیمان کے اندر بلکہ باہر بھی حکومت سے جواب طلب کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملات پر خاموشی اختیار کرنا کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے مناسب نہیں۔ حزبِ اختلاف نے پولیس کی کارروائی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے اسے بنیادی شہری آزادیوں کے منافی قرار دیا۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور دیگر اقدامات کیے گئے، جبکہ بعض مقامات پر مشتعل افراد کی جانب سے پتھراؤ بھی ہوا۔ ایسے حالات میں احتجاج کا ماحول مزید کشیدہ ہو گیا۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے پولیس کے طاقت کے استعمال پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے اختیار کیے جانے والے اقدامات قانونی، ضروری اور متناسب ہونے چاہییں۔

یہ احتجاج اس حقیقت کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ نوجوان نسل اب صرف روزگار ہی نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور جواب دہی کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔ بھارت دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن بے روزگاری، مسابقت میں اضافہ، محدود مواقع اور امتحانی نظام پر اعتماد کی کمی نوجوانوں میں شدید بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ جب ان کے مستقبل سے وابستہ امتحانات ہی متنازع ہو جائیں تو یہ بے چینی احتجاج کی صورت اختیار کرنا فطری امر بن جاتا ہے۔

سماجی ذرائع ابلاغ نے اس تحریک کو غیر معمولی وسعت دی ہے۔ ماضی میں احتجاجی تحریکیں زیادہ تر روایتی سیاسی جماعتوں یا طلبہ تنظیموں کے ذریعے منظم ہوتی تھیں، لیکن اس مرتبہ لاکھوں نوجوانوں نے براہِ راست ڈیجیٹل ذرائع سے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کیا، معلومات کا تبادلہ کیا اور اپنی آواز پورے ملک تک پہنچائی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید دور میں عوامی رائے سازی اور سیاسی سرگرمیوں میں سماجی ذرائع ابلاغ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی وابستہ ہے کہ معلومات کی درستگی، حقائق کی تصدیق اور ذمہ دارانہ اظہار کو یقینی بنایا جائے تاکہ افواہوں اور اشتعال انگیزی سے بچا جا سکے۔

وزیرِ تعلیم نے حالیہ دنوں میں اصلاحات، شفاف تحقیقات اور طلبہ کو جواب دہی فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم عوامی اعتماد صرف بیانات سے بحال نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ امتحانی نظام کی جدید خطوط پر تنظیمِ نو، سوالیہ پرچوں کی حفاظت، آزاد نگرانی، مؤثر احتساب اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہی ایسے اقدامات ہیں جو مستقبل میں اس نوعیت کے بحرانوں کو روک سکتے ہیں۔

یہ احتجاج ایک اہم حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے ریاست کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہوتا ہے۔ عوام خصوصاً نوجوانوں کے سوالات کا جواب طاقت سے نہیں بلکہ مکالمے، شفافیت اور مؤثر اصلاحات سے دیا جانا چاہیے۔ وہ حکومتیں زیادہ مضبوط ثابت ہوتی ہیں جو تنقید کو برداشت کرتی ہیں، غلطیوں کا اعتراف کرتی ہیں اور اداروں کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرتی ہیں۔

بھارت کی موجودہ احتجاجی تحریک کا انجام کچھ بھی ہو، اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نوجوان نسل اب اپنے مستقبل کے بارے میں خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ میرٹ، انصاف، شفافیت اور مساوی مواقع کو اپنا بنیادی حق سمجھتی ہے۔ اگر حکومتیں ان مطالبات کو سنجیدگی سے لیں اور ادارہ جاتی اصلاحات کو ترجیح دیں تو عوامی اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر ایسے احتجاج مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد یہی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں، خصوصاً نوجوانوں، کے اعتماد کو ہر حال میں برقرار رکھے۔

ری پبلک پالیسی تھنک ٹینک کی شہرۂ آفاق کتابیں، جن میں دی بیوروکریٹک کو بھی شامل ہے، وینگارڈ بکس، لبرٹی بکس، ریڈنگز، کتاب سرائے، سنگِ میل، سعید بک بینک اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن اور پاکستان بھر کے دیگر معروف کتب فروشوں پر دستیاب ہیں۔ گھر بیٹھے کتاب منگوانے کے لیے رابطہ کریں: 03009552542۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]