پاکستان کی ٹیکنالوجی برآمدات: پائیدار معاشی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت

[post-views]
[post-views]

Kamran Abdullah

پاکستان کی معیشت کو گزشتہ کئی برسوں سے برآمدات میں تنوع پیدا کرنے، زرمبادلہ بڑھانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ روایتی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل، اب بھی ملکی تجارت کا اہم حصہ ہیں، لیکن عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور بدلتے ہوئے معاشی رجحانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ صرف چند شعبوں پر انحصار مستقبل کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ ایسے حالات میں ملک کا معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کا شعبہ امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ مالی سال دو ہزار چھبیس کے اعدادوشمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی ٹیکنالوجی برآمدات مسلسل ترقی کر رہی ہیں اور ملکی معیشت کے لیے ایک دوسرے مضبوط برآمدی ستون کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔

مالی سال کے اختتام پر اس شعبے نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جون کے مہینے میں معلوماتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کی برآمدات چار سو سولہ ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ تھا۔ پورے مالی سال کے دوران یہ برآمدات بڑھ کر چھیالیس سو ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ اس کامیابی نے نہ صرف حکومتی ہدف کو پورا کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت عالمی منڈی میں اپنی جگہ مضبوط بنا رہی ہے۔

اس کامیابی میں آزاد پیشہ ور افراد کا کردار انتہائی نمایاں رہا۔ ملک بھر کے ہزاروں نوجوان پروگرامنگ، ویب سازی، گرافک ڈیزائن، تحریر، مشاورت، ڈیجیٹل تشہیر اور دیگر خدمات کے ذریعے دنیا بھر کے گاہکوں کو اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ ان کی بدولت ٹیکنالوجی برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ حاصل ہوا۔ یہ شعبہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں کامیابی کے لیے بڑے کارخانے یا بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں بلکہ علم، مہارت، انٹرنیٹ اور محنت بنیادی وسائل ہیں۔ اسی وجہ سے دوردراز علاقوں کے نوجوان بھی عالمی منڈی تک رسائی حاصل کر رہے ہیں اور ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ کما رہے ہیں۔

ڈیجیٹل معیشت کی یہ ترقی صرف آزاد پیشہ ور افراد تک محدود نہیں رہی۔ پیشہ ورانہ خدمات، فنی مشاورت، انجینئرنگ، مالیاتی خدمات، قانونی مشاورت اور دیگر کاروباری خدمات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ان تمام شعبوں نے مل کر تقریباً چھ ارب چھہتر کروڑ ڈالر کی برآمدات کیں، جو پاکستان کی مجموعی خدماتی برآمدات کا بڑا حصہ بنتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی برآمدی بنیاد بتدریج وسیع ہو رہی ہے اور معیشت روایتی شعبوں سے آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا کر رہی ہے۔

ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستانی کمپنیاں اب صرف امریکہ اور یورپ تک محدود نہیں رہیں بلکہ جاپان، سنگاپور، خلیجی ممالک اور مشرقی ایشیا کی دیگر منڈیوں میں بھی اپنے لیے مواقع تلاش کر رہی ہیں۔ نئی منڈیوں تک رسائی نہ صرف برآمدات میں اضافہ کرتی ہے بلکہ کسی ایک خطے پر ضرورت سے زیادہ انحصار کے خطرات کو بھی کم کرتی ہے۔

تاہم اس روشن تصویر کے باوجود کئی بنیادی مسائل موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی بڑی تعداد اب بھی کم لاگت والی سافٹ ویئر خدمات، کاروباری معاونت، صارفین کی رہنمائی اور مختصر مدتی منصوبوں پر انحصار کرتی ہے۔ یہ سرگرمیاں زرمبادلہ ضرور فراہم کرتی ہیں، لیکن ان میں منافع کی گنجائش محدود ہوتی ہے اور عالمی سطح پر ان کا مقابلہ بھی بہت زیادہ ہے۔ مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کی تیز رفتار ترقی نے معمول کی پروگرامنگ اور معاونتی خدمات کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیا ہے۔

دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں عالمی سطح کی اپنی ٹیکنالوجی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیاں ابھی کم ہیں۔ ایک کامیاب سافٹ ویئر یا ڈیجیٹل مصنوعات تیار کرنے کے لیے برسوں کی تحقیق، مسلسل سرمایہ کاری، بین الاقوامی تشہیر، مضبوط انتظامی نظام اور عالمی فروخت کا مؤثر نیٹ ورک درکار ہوتا ہے۔ زیادہ تر پاکستانی ادارے چھوٹے ہیں اور ان کے پاس اتنے مالی وسائل موجود نہیں کہ وہ طویل المدتی تحقیق اور اختراع پر سرمایہ کاری کر سکیں۔ اسی لیے وہ فوری آمدنی دینے والے منصوبوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت، بادل نما کمپیوٹنگ، معلوماتی تحفظ، معلوماتی تجزیہ، خودکار نظام اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ جامعات کو صنعت کے ساتھ قریبی روابط استوار کرنے چاہییں تاکہ فارغ التحصیل نوجوان عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق مہارتیں حاصل کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری، اختراعی مراکز اور کاروباری معاونت کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔

بین الاقوامی ادارے صرف اچھی فنی صلاحیت نہیں دیکھتے بلکہ وہ معلوماتی تحفظ کے عالمی معیار، شفاف انتظام، معیاری اسناد، مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے اور بڑے منصوبوں کی کامیاب تکمیل کا تجربہ بھی طلب کرتے ہیں۔ اگر پاکستانی کمپنیاں ان شعبوں میں سرمایہ کاری کریں تو وہ زیادہ بڑے اور طویل المدتی عالمی معاہدے حاصل کر سکتی ہیں۔

حکومت نے آئندہ چند برسوں میں ٹیکنالوجی برآمدات کو دس ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ایک قابلِ تحسین مگر نہایت مشکل ہدف ہے، جس کے لیے ہر سال بہت زیادہ رفتار سے ترقی کرنا ہوگی۔ یہ مقصد صرف آزاد پیشہ ور افراد یا بیرونی خدمات کی فراہمی سے حاصل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے نئی مصنوعات کی تیاری، تحقیق، اختراع، عالمی تشہیر، سرمایہ کاری اور اعلیٰ مہارتوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

پاکستان کی ٹیکنالوجی صنعت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملکی معیشت کو نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر موجودہ رفتار کو دانشمندانہ پالیسیوں، معیاری تعلیم، مضبوط اداروں، تحقیق، اختراع اور عالمی معیار کی کاروباری حکمت عملی کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ شعبہ نہ صرف زرمبادلہ میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار، پائیدار معاشی ترقی اور عالمی سطح پر پاکستان کی مثبت شناخت کا بھی ذریعہ بن سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]