سپریم کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف کی بعد از گرفتاری ضمانت سے متعلق آٹھ اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیا اور پراسی کیوشن ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے میں اٹھنے والے قانونی سوالات پر مکمل تیاری کرے۔
چیف جسٹس آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ضمانت کے فیصلے میں دی گئی فائنڈنگز کو فی الحال زیر بحث نہیں لایا جائے گا کیونکہ ان پر فوری رائے دینے سے کسی ایک فریق کے مقدمے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر عدالت صرف قانونی پہلوؤں پر توجہ دے گی، اور فریقین کو نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں۔
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دینے کی خواہش ظاہر کی تاہم چیف جسٹس نے انہیں اس موقع پر روسٹرم پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا ضمانت کے مقدمات میں حتمی آبزرویشنز دی جا سکتی ہیں اور دونوں جانب کے وکلاء کو ہدایت دی کہ آئندہ سماعت تک قانونی نکات پر معاونت فراہم کریں۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ ، جس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس شفیع صدیقی بھی شامل تھے، نے سماعت 19 اگست تک ملتوی کر دی۔









