جنگ، قانون اور طاقت: عالمی نظام کے نئے چیلنجز

[post-views]
[post-views]

دنیا ایک ایسے خطرناک مرحلے پر کھڑی ہے جہاں طاقت اور قانون کے درمیان توازن شدید دباؤ کا شکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ عسکری کارروائی میں ایران کے اندر وسیع پیمانے پر حملے کیے گئے ہیں جن میں ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں ایران کے اعلیٰ رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت نے عالمی سیاست میں غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی ہے۔

امریکی صدر نے اس کارروائی کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ تاہم ان کے بیانات میں تضاد بھی موجود ہے۔ کبھی کہا گیا کہ ایران فوری حملے کے قریب تھا اور کبھی یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو پہلے ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کی غیر مستقل وضاحتیں جنگ کے قانونی جواز کو کمزور کرتی ہیں۔

امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔ صدر فوجی کارروائی کی قیادت کر سکتا ہے مگر مستقل جنگ کا اعلان کرنا اس کا حق نہیں۔ موجودہ صورتحال میں آئینی حدود اور صدارتی اختیارات ایک سخت امتحان سے گزر رہے ہیں۔ کانگریس کے بعض ارکان نے فوجی انخلا کے لیے رائے شماری کرنے کا عندیہ دیا ہے، اگرچہ عملی کامیابی مشکل دکھائی دیتی ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا استعمال صرف سلامتی کونسل کی اجازت یا حقیقی دفاع کے تحت جائز ہے۔ اس وقت امریکہ نے نہ تو واضح قانونی جواز پیش کیا ہے اور نہ ہی عالمی سطح پر تمام شرائط پوری کی ہیں۔ کئی ممالک نے اس کارروائی پر تحفظات ظاہر کیے ہیں اور اپنی عسکری سہولیات کے استعمال کو محدود کیا ہے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امن کے زمانے میں کسی سیاسی رہنما یا حکومتی شخصیت کو نشانہ بنانا غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے، جبکہ جنگ کی حالت میں اس کی تشریح مختلف ہو سکتی ہے۔ ایران کے اعلیٰ رہنما کی ہلاکت کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ کارروائی محض جنگی اقدام تھی یا قانونی حد سے تجاوز تھا۔

اگر یہ تنازع طویل ہو جاتا ہے تو عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تعلقات پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی رائے ہی وہ واحد رکاوٹ ہو سکتی ہے جو غیر واضح جواز کے ساتھ شروع ہونے والی جنگوں کو محدود کر سکے۔

دنیا آج اس سوال کا سامنا کر رہی ہے کہ طاقت اور قانون کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے اور یہ کہ عالمی نظام کی مستقبل کی راہیں کس سمت جائیں گی۔

ظفر اقبال

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos