امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کسی بھی ریاست کی حقیقی ترقی آئین اور قانون کی مکمل بالادستی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی، مگر بدقسمتی سے ملک میں من پسند اور وقتی تقاضوں کے تحت کی جانے والی ترامیم نے آئین کی اصل روح کو متاثر کیا ہے اور اس کے خدوخال کو مسخ کر دیا گیا ہے۔
منصورہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وکلاء برادری پر زور دیا کہ وہ آئین کی بحالی اور اس کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید تیز کریں، کیونکہ یہی طبقہ اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں طاقتور مفاداتی گروہوں اور مافیاز نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے، جس کے باعث شفاف اور مؤثر احتساب کا نظام عملاً غیر فعال ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں کسی بھی حکومت کے لیے عوامی حمایت کے بغیر مشکلات کا سامنا کرنا اور بحرانوں سے نکلنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق پائیدار استحکام کے لیے ضروری ہے کہ حکومتیں عوام کا اعتماد حاصل کریں اور آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔









