ججز کے تبادلوں پر چیف جسٹس کا دوٹوک مؤقف، غیر رسمی درخواستیں مسترد

[post-views]
[post-views]

اسلام آباد میں ججز کے تبادلوں کے معاملے پر چیف جسٹس پاکستان آفریدی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سرفراز ڈوگر کو تحریری جواب دے دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس غیر رسمی درخواستوں پر نہیں بلایا جا سکتا اور بغیر ٹھوس وجوہات ججز کا تبادلہ سزا کے مترادف ہوگا۔ ایسے اقدامات سے عدالتی توازن، صوبائی نمائندگی اور وفاقی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق اگر بڑی تعداد میں ججز کا تبادلہ کیا گیا تو ادارہ جاتی عدم استحکام پیدا ہوگا اور اسلام آباد ہائی کورٹ ایکٹ 2010ء کے تقاضے بھی متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ججز کے خلاف کارروائی آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ہی ممکن ہے اور انتظامی تبادلے عدلیہ کی آزادی کے منافی ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس بلانے کے لیے ایک تہائی ارکان کی باقاعدہ درخواست ضروری ہے، جو 7 اپریل 2026 کو موصول ہو چکی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos