وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ نئے بھرتی ہونے والے جیل وارڈنز سے توقع ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور پیشہ ورانہ انداز میں نبھائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھرتی کے پورے عمل میں میرٹ اور شفافیت کو اولین ترجیح دی گئی اور وہ ذاتی طور پر تعینات ہونے والوں میں سے کسی کو نہیں جانتے۔
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ کسی امیدوار نے تقرری کے لیے سفارش کا سہارا نہیں لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو اپنی بھرتی کے حوالے سے کوئی اعتراض ہو تو وہ بلاجھجھک وزیرِاعلیٰ ہاؤس سے رجوع کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جیلوں میں قیدیوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے، جبکہ ورچوئل عدالتوں اور آن لائن اجلاسوں جیسے اقدامات کے ذریعے سیکیورٹی میں بہتری اور وسائل کی بچت ممکن ہوئی ہے۔
وزیرِاعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 2400 نئے ڈاکٹرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے، جس کی وہ خود نگرانی کر رہے ہیں، اور اس سلسلے میں میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ دو خواجہ سرا افراد کی تقرری معاشرے میں شمولیتی رویے کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ اقلیتوں کو برابر مواقع فراہم کرنے کے لیے حکومتی کوششیں جاری ہیں۔









