پشاور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس میں قبائلی عمائدین کا لویہ جرگہ محمد سہیل آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں قبائلی اضلاع میں بدامنی، ڈرون حملوں اور امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔
جرگے میں قبائلی مشران، منتخب نمائندے، سینیٹرز، اپوزیشن اراکین اور علمائے کرام نے شرکت کی۔ شرکاء نے ڈرون حملوں میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کی ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی۔
وزیراعلیٰ نے چیک پوسٹس پر عوام سے ناروا سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرگے کی سفارشات کی روشنی میں ایک نمائندہ وفد وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سے مذاکرات کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات ناکام ہونے پر اسلام آباد مارچ کیا جا سکتا ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت قبائلی اضلاع میں امن کے قیام اور ڈرون حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔ انہوں نے ایکشن اِن ایڈ آف سول پاور قانون، زیر حراست افراد کی تفصیلات نہ ملنے اور فوجی آپریشنز کے باوجود امن بحال نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔
جرگے میں فاٹا انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کے مالی و آئینی حقوق، ترقیاتی فنڈز اور این ایف سی میں صوبے کے حصے پر بھی گفتگو کی گئی۔









