پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل صرف مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس لیے بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی رابطے کھلے رہنے چاہئیں تاکہ مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی رائے سننا اور مکالمے کو جاری رکھنا جمہوری نظام کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی باضابطہ سیاسی بات چیت جاری نہیں، تاہم پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ اپنے بانی چیئرمین تک رسائی ہے، جس میں ان کی فیملی اور ڈاکٹروں کی ملاقات بھی شامل ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی راستے بند کرنے سے مسائل مزید بڑھتے ہیں، اس لیے فوری اور سنجیدہ سیاسی رابطے ضروری ہیں۔ آئینی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجوزہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے لیے صوبوں کی رضامندی ضروری ہوگی، جبکہ طے شدہ قومی فیصلوں کو بار بار چھیڑنا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن جیسے اتفاق رائے پر مبنی نظام وفاقی یکجہتی کی علامت ہیں اور انہیں کمزور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے، ٹیکس اصلاحات اور محصولات میں اضافہ بھی قومی اتفاق رائے سے ہی ممکن ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر پیپلز پارٹی سے کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہوئے، صرف خیبر پختونخوا کے امور پر ایک ملاقات ہوئی تھی۔









