وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی آزادی، خودمختاری اور سرحدی سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی بیرونی خطرے یا جارحیت کے سامنے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
کوئٹہ میں اسٹاف کالج کے افسران اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری آپریشن “عزمِ استحکام” بھرپور عزم اور قوت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایسے خطرات کا سامنا ہے جن میں مبینہ طور پر افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس شامل ہیں، تاہم ریاست ان عناصر کے خلاف سخت اقدامات کر رہی ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم کے مطابق دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون ڈھانچوں کے خلاف منظم کارروائیاں جاری ہیں، جن کے نتیجے میں سیکیورٹی صورتحال میں بہتری اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے۔
انہوں نے بھارت کی کسی بھی اشتعال انگیزی کے مقابلے میں پاکستان کے ذمہ دارانہ اور محتاط طرزِ عمل کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے صبر اور تدبر کا راستہ اپنایا ہے۔
شہباز شریف نے مسلح افواج کی قربانیوں اور کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے دفاع، امن کے قیام اور اندرونی استحکام کے لیے صفِ اول کا کردار ادا کر رہی ہیں، اور پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے، لیکن کسی بھی خطرے یا جارحیت کی صورت میں اس کا جواب بھرپور اور فیصلہ کن ہوگا۔









