Premium Content

کیا اشرافیہ سے نجات ممکن ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

@PMScivilservant طارق محمود اعوان
 

کالم نگار سول سرونٹ ہیں اور انتظامی فیڈرلزم ریسرچ سوسائٹی کے سربراہ ہیں۔

ثقافتی سیاسی اور اقتصادی بُودوباش اس وقت تک تشکیل پاتی رہتی  ہے جب تک کہ بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے مسلمہ اصول مکمل طور پر نافذ نہ ہو جائیں۔ فطری طور پر ، ایک معاشرہ اشرافیہ کو برقرار رکھتاہے اور ایسا ہونا اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ جب تک اشرافیہ قانون کی حکمرانی کے سامنے سرنگوں رہے گی، معاشرے میں پسماندہ طبقات کا استحصال نہیں ہو گا۔ تاہم ا ن قانونی اور معاشرتی اقدار کےبرعکس پاکستان  میں روزِ اول سے ہی اشرافیہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام  پہلوؤں پر غالب رہی ہے۔

پاکستان میں اشرافیہ قانون سے بالا تر ہےاس کی جڑیں معاشرے کے سرایت شدہ طبقاتی نظام، نو آبادیاتی خُمار اور آمریت  کی بنیادوں میں پیوست ہیں۔ ہمارے معاشرے اور ریاست کی ترتیب میں تقریباً  تمام سماجی ، مذہبی، نسلی، معاشی اور سیاسی اجتماعات کی نمائندگی اُن کے ہی گروہی اشرافیہ سے ہوتی ہے۔ یہ تمام گروہی اشرافیہ ایک مشترکہ اور ناقابل تسخیر اجتماعی اشرافیہ تشکیل دیتے ہیں حیران کن بات یہ ہے کہ مذہبی اشرافیہ، جو کہ فطری طور پر باقی گروہی اشرافیہ سے متضاد ہے ، نے بھی دوسری گروہی اشرافیہ کے ساتھ بقا باہمی کا ایک میثاق ترتیب دیا ہوا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ان گروہی اشرافیہ نے کبھی ایک دوسرے کے خلاف مزاحمت نہیں کی بلکہ ایک مشترکہ اشرافیہ کو مضبوط اور محفوظ بنایا ہے۔

 پاکستان میں اشرافیہ، ریاست اور معاشرے کی ساخت پر اجارہ داری رکھتی ہے۔ اس کی بنیادی طاقت بڑے پیمانے پر معاشرے کی سماجی ، ثقافتی، اقتصادی اور سیاسی ہیت کو منظم کرنا ہے۔ اشرافیہ عام لوگوں کی منطق کو بہلانے کے لیے مذہبی، ثقافتی اور سیاسی بیانیے کو اپناتی ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے کہ متوسط طبقے یا اُس کی قیادت کو سیاسی اور معاشرتی عمل سے باہر رکھا جائے۔

پاکستانی اشرافیہ اپنے اقتصادی  اور طاقتی مفادات کے لیےمعیشت کو ترتیب دیتی ہے ، انتظامی اور عدالتی کاروائیوں پر  اثر و رسوخ  قائم کرتی ہے۔ اشرافیہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سول، عدالتی اور عسکری بیوروکریسی کے مختلف دھڑوں کو اپنے اندرضم کرتی ہے اور یوں اختیارات اور وسائل پر قابو پا لیتی ہے۔

یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ گروہی اشرافیہ اپنے مفادات کے لیے  یکجا کیسے ہوتی ہے؟ اقتصادی  اور طاقتی مفادات کے علاوہ شادی کا بندھن بھی ان گروہی اشرافیہ کو یکجا رکھتاہے۔ کیوں کہ شادی ایک سماجی معاہدہ  ہے اور یوں اسے آسانی سے کاروباری اور سیاسی معاہدوں تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ ترجیحی طور پر تما م گروہی اشرافیہ بشمول ادارہ جاتی  بیوروکریسی آپس میں ہی  شادی کرتے ہیں اور یوں ایک ناقابل تسخیر اجتماعی اشرافیہ تشکیل پاتی ہے۔ اگرچہ مذہبی اشرافیہ بھی اس اجتماعی اشرافیہ کا حصہ ہے ، تاہم وہ ان باہمی شادیوں سے الگ رہتے ہیں۔ لہذا گروہی اشرافیہ ایک طاقتور مافیا کی صورت اختیا کر لیتی ہے۔  اشرافیہ کی ترتیب اور بناوٹ کو اگر سمجھنا ہے تو لاہور جمخانہ کلب کی معمولی سی سیر اشرافیہ کی حقیقت آشکار کر دے گی۔ جمخانہ کلب جیسے ایلیٹ دعوت خانوں پر ہی ہمارے معاشرے اور ریاست کے بنیادی فیصلے تشکیل پاتے ہیں۔

پوری دنیا میں متوسط طبقہ ہی اشرافیہ کے خلاف مزاحمت کرتا ہے لیکن ایسا پاکستان میں نہیں ہے۔ ہمارا متوسط طبقہ طبقاتی ڈھانچے،  نو آبادیاتی خُمار اور طاقتی غلام گردشوں کا شکار ہے۔ مخصوص تاریخی ، اقتصادی  اور سیاسی پس منظر ہمیں مزاحمت کرنے سے روکتاہے۔ ہمارا المیہ ہے کہ ہم مزاحمت کرنے کی بجائے اشرافیہ کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ لیکن ، پھر یہ سب بدل رہا ہے اور شہروں میں اشرافیہ کےخلاف مزاحمت کی ابتدائی صورت نکل رہی ہے۔ یہ متوسط طبقہ ہی ہے جو کہ اشرافیہ کو قانون  کی حکمرانی کے تابع لا سکتا ہے۔

عرصہ دراز سے انسانی حساسیت  پر ایسا طرز عمل ترتیب دیا جا رہا ہے کہ اشرافیہ کا حصہ بننا ہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔  لہذا لا شعوری طور پر پاکستان کا متوسط طبقہ مزاحمت کی بجائے اشرافیہ کا حصہ بننے کو ترجیح دیتا رہا ہے۔ کیا کوئی متوسط طبقے کے نوجوانوں کے سول سروس  ، عدلیہ اور فوج میں شامل ہونے کے جنون کا تصور بھی کر سکتا ہے؟ کیوں کہ سروسز میں شامل ہونے سے  بلا آخر وہ اشرافیہ کا کمزور حصہ بن جائیں گے اس لیے متوسط طبقے کے نوجوان اشرافیہ سے مزاحمت کی بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔

کیا اشرافیہ کی گرفت  کمزور ہو سکتی ہے؟ بظاہر ، یہ ایک گمراہ کن خیا ل ہے لیکن ، اندھیرے میں ہمیشہ روشنی کی کرن موجودرہتی ہے۔ غالباً  یہ اُمید رکھنا کہ اشرافیہ کا کوئی دھڑا لوگوں کے نجات کے لیے اشرافیہ کے دوسرے دھڑوں کے خلاف جنگ چھیڑ سکتا ہے، محض حماقت ہے لہذا یہ صرف لوگ ہی ہیں جو کہ اشرافیہ کا احتساب کرنے کے لیے اپنے جمہوری حقوق کی صلاحیت کو بروئے کار لاسکتے ہیں۔ جمہوریت بہترین طرز عمل ہے جو  اشرافیہ کی مطلق  العنانیت کے بت  پاش کر سکتی ہے۔

عوام کو جمہوریت، نمائندگی اور شراکت داری کے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر اشرافیہ عوام کا استحصال جاری رکھے گی۔ لکھاریوں، دانش واروں اور متوسط طبقے کو اشرافیہ کے خلاف مزاحمتی تحریک کا ہرا ول دستہ ہونا چاہیے۔

پاکستان کو متوسط طبقے کی سیاسی جماعتوں کی اشد ضرورت ہے جو کہ قانون کی حکمرانی کو ہر عام وخاص پر لاگو کر سکیں۔ تقریباً، تمام ہم عصری سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی ہی نمائندہ سیاسی جماعتیں ہیں۔ یہ محض مفروضہ نہیں ہے بلکہ اس دلیل کو تمام سیاسی جماعتوں کے حلقہ جاتی سیاسی امیدوارن کی ترتیب سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اشرافیہ کے حلقہ جاتی سیاسی امیدوارن ہی وہ نقطہ ہے جہاں سے اشرافیہ کو ہمیشہ اقتدار میں لایا گیا ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں عوام کی نمائندہ کیسے ہو سکتی ہیں جبکہ وہ اشرافیہ کے دھڑوں کی نمائندگی کرتی ہیں؟ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہےکہ کسان کی نمائندگی جاگیردار کرے؟ کیا یہ مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہےکہ صنعت کار یا سرمایہ دار مزدوروں ، ملازمین یا  کمزور کاروباری حلقوں کی نمائند گی کریں؟ لہذا یہ ضروری ہے کہ لوگ اپنی سماجی ، سیاسی اور معاشی نمائندگی کو اشرافیہ سے واپس لیں اور اپنے ہم خیال اور  اپنے ہم عصر نمائندوں کو منتخب کریں۔ آئینی طور پر اقتدار پاکستانی عوام کی امانت ہے ، لہذا  اُنہیں اپنے آئینی اختیارات کےحصول کے لیےہمہ وقت جدوجہد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اختیارات کی عدم مرکزیت آزادی کا ضابطہ ہے اور اس بنیادی حصول کی  ضمانت آئین  پاکستان میں دی گئی ہے۔ پاکستان میں اشرافیہ کا غلبہ مرکزیت پر منحصر ہے۔ عدم مرکزیت اشرافیہ کےلیے انتظامی موت کا باعث ہے۔ اشرافیہ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی میں بنیادی رکاوٹ ہے کیوں کہ نچلی سطح پر لوگوں کے با اختیار ہونے سے  عوامی شراکت داری اور فیصلہ سازی مضبوط ہو گی۔ متوسط طبقے کی قیادت پیدا کرنے کے لیے ایک مضبوط مقامی حکومت کا نظام بنیادی حل ہے اقتدار کا ارتکاز  اشرافیہ کا مقصد ہےاور اقتدار کا انحراف عوام کا محرک ہے۔ اگر عوام ، ایک بار اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو یقینی بنا لیتے ہیں تو پر اُن کے لیے صوبائی اور وفاقی سطح پر اقتدار سنبھالنا قدرے آسا ن ہو گا۔ اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے سیاسی نمائندگی اور قانون کی حکمرانی ضروری ہے۔ سیاسی طور پر  عوام کی جتنی زیادہ نمائندگی ہو گی اشرافیہ کا غلبہ اتنا ہی کم ہو گا۔ آخر میں، لوگوں کو اشرافیہ کی اجارہ داری کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے جو ثقافتی انضمام ، بیانیہ کی تشکیل اور سیاسی تعمیر کے لیے ہے۔ متوسط طبقے  کو بوجھ اُٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ نمائندہ حکومتیں بنائی جا سکیں۔ اگرچہ یہ ناممکن لگتا ہے، پھر بھی  ناقابل تسخیر اشرافیہ کو ختم کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔ پاکستان اس  اشرافیہ کے ساتھ کبھی ترقی نہیں کرپائے گا۔

3 thoughts on “کیا اشرافیہ سے نجات ممکن ہے؟”

  1. Mr Tariq Awan has deep insight to official bussiness of the state and is well conversant with the ground realities of the society. The given facts may be taken as an important source for reshaping thedeploring governance.

  2. Rana Mudassar Riaz

    Mr Rana Mudassar Riaz has served forces, public and private sector for three decades. He holds specialization in criminology, law, security studies, youth development and management sciences. He is innovator of a number of initiatives. He is founder of HUMANS.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos