گنڈا سنگھ والا بیراج پر ہفتہ کے روز دریائے ستلج میں پانی کی سطح انتہائی بلند ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں قصور اور چونیاں کے 72 دیہاتوں کے سینکڑوں خاندانوں کا انخلا شروع ہو گیا ہے، جبکہ قصور میں سیلابی پانی میں ڈوبنے والے تین میں سے دو دیہاتیوں کو نکال لیا گیا ہے جبکہ تیسرے شخص کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اطلاع دی ہے کہ دریائے ستلج میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال جاری ہے اور صورتحال کا انحصار ہریکے ہیڈ ورکس اور فیروز پور ہیڈ ورکس پر پانی کے بہاؤ پر ہوگا۔ گنڈا سنگھ والا بیراج پر پانی کا بہاؤ 269,000 کیوسک کے ساتھ 23 فٹ تک بڑھ گیا۔ سلیمانکی میں درمیانے درجے کا سیلاب تھا جس کا بہاؤ 83,072 کیوسک تھا۔ اگلے 24 گھنٹوں میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
ہیڈ اسلام پر پانی کی آمد 30 ہزار 142 کیوسک تک پہنچ گئی۔ ہیڈ اسلام میں شدید سیلاب کا خطرہ 22 اگست سے شروع ہونے کا امکان ہے تاہم سندھ، جہلم، چناب اور راوی میں پانی کا بہاؤ معمول پر ہے۔
دریائے ستلج سے ملحقہ اضلاع کے انتظامی حکام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہےاور ستلج کے قریب علاقوں میں لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو دریائے ستلج کے کنارے قائم بندوں کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔









