عبوری وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے پیر کو جڑانوالہ کا دورہ کیا۔متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اور امدادی چیک تقسیم کیے۔
فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مرتب کردہ تخمینوں کے مطابق، ہجوم کے ہاتھوں توڑ پھوڑ کے نتیجے میں کم از کم 22 گرجا گھروں کو 29.1 ملین روپے کا نقصان پہنچا جبکہ تشدد کا نشانہ بننے والے 91 گھروں کو 38.5 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ انتظامیہ نے یہ رپورٹ صوبائی حکومت کو بھجوا دی۔ ہجوم کی طرف سے تباہ شدہ اشیاء کی فہرست میں پنکھے، ایئر کنڈیشن، واٹر فلٹر پلانٹ، جنریٹر، قالین، فرنیچر اور دیگر برقی آلات شامل تھے۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
ملک میں کہیں بھی اپنے پہلے سرکاری دورے پر جڑانوالہ میں اپنی تقریر کے دوران، عبوری وزیر اعظم نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا ریاست کا فرض ہے۔نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ہر شہری کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
عبوری وزیر اعظم نے بین المذاہب اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جو بھی اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی کرتا ہوا پایا گیا اسے ریاست کی طرف سے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ انتہا پسندی کا کسی مذہب، زبان یا علاقے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔









