پنجاب کے نگراں وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈاکٹر جمال ناصر نے بتایا ہے کہ ایک نجی ہسپتال کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے جس نے غیر قانونی طور ایواسٹن انجکشن تیار کرنے اور فروخت کرنے کے لیے جگہ کرائے پر دی تھی۔
ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں واقع مذکورہ ہسپتال کو نوٹس جاری کرکے معاملے کی انکوائری کرے۔
انہوں نے کہا کہ نجی ہسپتال کی انتظامیہ کو اس کا فلور کرایہ پر لینے کے بعد اس جگہ کے استعمال کی نگرانی کرنے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بات کو یقینی بناتےکہ وہاں کوئی غیر قانونی سرگرمیاں نہ ہو۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
ڈاکٹر جمال ناصر نے بتایا کہ اب تک انجکشن سے متاثر ہونے والے 80 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں اور یہ تقریباً حتمی اعداد و شمار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میو ہسپتال لاہور میں 20 مریض زیر علاج ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی آنکھوں کی بینائی کی صحیح حالت کا تعین ان کی آنکھوں میں انفیکشن کے علاج کے بعد کیا جائے گا۔
ڈاکٹر جمال ناصر نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد شوگر کے مریضوں کی آنکھوں کے علاج کے لیے ایواسٹن انجکشن کے استعمال پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ تاہم اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔









