لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا حتمی فیصلہ سنانے سے روک دیا، جبکہ توشہ خانہ کیس میں سزاکے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ بنچ نے جمعرات تک ملتوی کردی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس وحید خان نے پی ٹی آئی چیئرمین کی جانب سے دائر درخواست پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اور فیصلہ کے لیے لارجر بینچ تشکیل دینے کی تجویز کے ساتھ اسے چیف جسٹس کو بھجوا دیا۔
درخواست میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 10 کے تحت شروع کی گئی توہین عدالت کی کارروائی میں پی ٹی آئی چیئرمین پر فرد جرم عائد کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے 20 جون کے حکم کو چیلنج کیا گیا۔
Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.
توشہ خانہ کیس میں جیل میں بند سابق وزیراعظم کی جانب سے ایڈووکیٹ سمیر کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ غیر قانونی حکم نامے میں غلط کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر کو شوکاز نوٹس جاری کرنے اور معاملے کو آگے بڑھانے کا اختیار ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ چیف الیکشن کشمنر کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں تھا اور انہوں نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا تھا۔
ایڈووکیٹ کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 10 اور 4(2) اور الیکشن رولز 2017 کے رول 4 آئین سے متصادم ہیں ۔
دلائل کے بعد جسٹس وحید خان نے الیکشن کمیشن کو درخواست گزار کے خلاف کارروائی کو حتمی شکل دینے سے روک دیا اور آئندہ سماعت تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔









